افغان صدر کو اعتراض ہے تو امریکا سے بات کریں،وزیر خارجہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان صدر سے کہا ہے کہ وہ ملکی مفاد کو مدنظر رکھیں اور امن معاہدے کے تحت طالبان قیدی رہا کریں۔

ایک انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ معاہدے میں قیدیوں کے تبادلے کا ذکر ہے، افغان صدر اشرف غنی کو اعتراض ہے تو وہ امریکا سے وضاحت مانگیں، امریکی کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد مذاکرات سے متعلق افغان قیادت کو آگاہ کرتے رہے ہیں، قیدیوں کی رہائی یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہوگی۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ دوحہ امن معاہدے کے بعد اب اگلا قدم بین الافغان مذاکرات ہیں، افغان قیادت پر سازگار ماحول کی ذمے داری ہے، اعتماد کی فضا بہتر بنانے کیلئے فریقین کو آگے بڑھنا چاہئے، طالبان بھی فراخ دلی دکھائیں، اگر امن عمل کامیاب نہ ہوا تو نقصان افغان عوام کا ہوگا۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ پاکستان سازگار ماحول پیدا کرسکتا ہے لیکن افغانستان کے فیصلے نہیں کرسکتا ، اگر ہٹ دھرمی دکھائی گئی تو بات آگے نہیں بڑھے گی۔

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان نے 29 فروری کو تاریخی امن معاہدے پر دستخط کئے تھے ، معاہدے کے تحت امریکا اور نیٹو افواج 14 ماہ میں افغانستان سے انخلا کی پابندی ہیں ، 10 مارچ تک 5 ہزار طالبان قیدیوں اور ایک ہزار افغان سیکیورٹی اہلکاروں کا تبادلہ ہوگا، اس کے ساتھ ہی افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔

افغان صدر اشرف غنی کہہ چکے ہیں کہ حکومت نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ نہیں کیا اور اسیروں کو رہا کرنا امریکا کے اختیار میں نہیں ہے۔

اس کے بعد افغان طالبان نے جنگ بندی جزوی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا کہ وہ معاہدے پر عمل کرتے ہوئے غیر ملکی افواج پر حملے نہیں کریں گے البتہ افغان فورسز کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔

ٹرینڈنگ

مینو