وفاق کی کورونا پالیسی 25 کلومیٹر تک محدود

سپیرم کورٹ کے ججز نے ریمارکس دیئے ہیں کہ 90 فیصد مساجد میں ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جارہا۔ سندھ میں جامع پالیسی بنا کر فیکٹریوں کو کام کی اجازت ملنی چاہئے ، ایک صوبائی وزیر وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا کہتا ہے یعنی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ ہے۔

سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں،  ماسک تھوک میں 2 روپے کا ملتا ہے، پتہ نہیں یہ سامان کیسے خریدا جارہا ہے، لگتا ہے کام کاغذوں میں ہورہے ہیں، سرکاری رپورٹس میں کچھ نہیں، کسی چیز میں شفافیت نہیں، کورونا سے متعلق اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو حقیقت سامنے آئےگی۔

چیف جسٹس کے سوال پر سیکریٹری صحت نے بتایا کہ اسلام آباد میں حاجی کیمپ قرنطینہ غیرفعال تھا، قرنطینہ سینٹر گرلز ہاسٹل میں منتقل کیا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی پالیسی صرف 25 کلومیٹر تک محدود ہے۔

سندھ کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ صوبائی حکومت پالیسی بنانے کے بجائے صنعتیں کھولنے کی اجازت دے رہی ہے ، صوبوں کو ایسے کاروبار روکنے کا کوئی اختیار نہیں جو مرکز کو ٹیکس دیتے ہیں، لگتا ہے وفاق اور صوبائی حکومتیں عوام کے خلاف سازش کر رہی ہیں، ایک صوبائی وزیر کہتا ہے وزیراعظم کے خلاف پرچہ درج کرائیں گے، یعنی صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آوٹ ہے، پتہ نہیں دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ، وفاقی حکومت کی پالیسی صرف 25 کلومیٹر تک محدود ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں میں تعاون نہ ہونے کی وجہ مرکز میں بیٹھے لوگوں کا متکبرانہ رویہ ہے، ایک ہفتے میں کورونا سے متعلق یکساں پالیسی بنائی جائے ورنہ عبوری حکم جاری کریں گے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے مارکیٹس بند کراکے مساجد کھول دیں، کیا مسجدوں سے کورونا نہیں پھیلے گا، 90 فیصد مساجد میں ایس او پیز پر عمل نہیں ہورہا۔ جسٹس قاضی امین نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے کہا کہ حقیقت آپ کے بیان سے مختلف ہے، پنجاب میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ الارمنگ ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو