ویکسین کا بندرکے بعد انسانوں پر تجربہ

چین  نے کورونا وائرس کے خلاف تیار کردہ ویکسین کا بندر پر کامیاب تجربہ کرلیا۔ اس سے ویکسین مارکیٹ میں لانے کی راہ آسان ہوگئی ہے۔

پی کوو ویک نامی ویکسین بیجنگ کی سائنوویک بائیوٹیک کمپنی نے تیار کی ہے۔ کمپنی نے ویکسین کی تیاری کیلئے معمول کا طریقہ اپنایا۔ اس میں غیر فعال وائرس (ویکسین) رہیسز بندروں میں داخل کئے جاتے ہیں۔ اس سے مدافعتی نظام کو فعال کرکے اینٹی باڈیز تیار کی جاتی ہیں۔ یہ اینٹی باڈیز فعال وائرس کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ عمل بندروں پر انجام دیا گیا اور 3 ہفتے بعد ان بندروں میں فعال کورونا وائرس داخل کئے گئے۔ مزید ایک ہفتے بعد یہ نوٹ کیا گیا کہ جن بندروں کو سب سے زیادہ مقدار میں ویکسین دی گئی تھی ، ان کے پھیپھڑوں میں فعال وائرس موجود نہیں تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو غیر فعال کورونا وائرس (یعنی ویکسین) بندروں میں داخل کئے گئے تھے انھوں نے بندروں میں اینٹی باڈیز بنائیں جنہوں نے فعال کورونا وائرس کو ختم کردیا۔

ایسے بندر جنہیں پی کووویک ویکسین (غیرفعال وائرس) نہیں دی گئی تھی انہیں فعال کورونا وائرس دیئے جانے کے بعد شدید نوعیت کا نمونیا ہوگیا۔

یہ ویکسین وسط اپریل سے انسانوں پر بھی جانچی جارہی ہے۔ صرف یہی نہیں چینی ملٹری انسٹی ٹیوشن کی جانب سے تیار کردہ ایک اور ویکسین بھی انسانوں پر جانچی جارہی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو