نفرت انگیزی سے خون ریزی کا خدشہ ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں اب دہشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں، اقوام متحدہ نے بھارت میں کردار ادا نہ کیا تو صورتحال بہت سنگین ہوسکتی ہے۔

اسلام آباد میں افغان پناہ گزینوں کی کانفرنس کے دوران وزیراعظم نے مسلمانوں پر بھارتی مظالم کو تشویشناک قرار دیا، انھوں نے بتایا کہ موجودہ بھارت کی آئیڈیالوجی نفرت پر مبنی ہے اور انتہا پسند سوچ غالب ہے، 6 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں عوام کھلی جیل میں قید ہیں، بھارت میں شہریت کے متنازع قوانین سے 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ انتہا پسندی انتہائی خطرناک ہے، اقوام متحدہ بھارت میں انتہاپسند اقدامات کا نوٹس لے۔

عمران خان نے بتایا کہ بی جے پی قیادت متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو پاکستان جانے کا کہتی ہے ، مسئلہ حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں مہاجرین کا بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوگا اور پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کیا ایک ارب کی آبادی والے ملک کا وزیراعظم اور آرمی چیف اتنے غیر ذمہ دارانہ بیان دے سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھارت میں کردار ادا نہ کیا تو صورت حال انتہائی خراب ہوسکتی ہے، بھارت میں نفرت انگیزی کنٹرول نہ کی گئی تو خون ریزی کا خدشہ ہے۔

وزیراعظم نے افغانستان میں امن کی خواہش کا اظہار کیا ، انھوں نے بتایا کہ پاکستان امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا گو ہے اور برادر ملک میں بدامنی پاکستان کے مفاد میں نہیں، پاکستان میں اب دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے نہیں ، ہمارے پاس افغان مہاجرین کے درجنوں کیمپ ہیں اور ہر شخص کو چیک نہیں کیا جا سکتا۔

ٹرینڈنگ

مینو