پاک بھارت مذاکرات کا مطالبہ کیا جائے گا، وائٹ ہاؤس

امریکا کے صدر دورہ بھارت میں مودی سرکار کے ساتھ اقتصادی اور فوجی معاہدوں پر دستخط کریں گے لیکن ساتھ ہی بھارتی وزیراعظم کی انتہاپسند پالیسیوں پر بھی کھل کر بات ہوگی۔

وائٹ ہاوس انتطامیہ نے تصدیق کردی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس دورے میں بھارت پر زور دیں گے کہ وہ اقلیتوں سے بدترین امتیازی سلوک ختم کرے ، امریکی صدر مذہبی آزادی یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کریں گے۔

بھارت کی انتہاپسند حکومت مقبوضہ کشمیر کے عوام سے غیرآئینی اور غیرانسانی سلوک کر رہی ہے اور لوگوں کئی ماہ سے اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔

امریکی صدر اپنے اس دورے میں زور دیں گے کہ قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے اور تمام مذاہب کے پیروکاروں سے مساوی سلوک کیا جائے۔

پاکستان کے سرحدی علاقوں اور لائن آف کنٹرول سے ملحقہ آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کرنے والے بھارت پر زور دیا جائے گا کہ پاکستان سے کشیدگی ختم کی جائے اور کنٹرول لائن پر استحکام کی فضا پیدا کی جائے۔

بھارتی وزیراعظم پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے بھی انکار کر رہے ہیں ، امریکی صدر دورہ بھارت میں مودی سرکار پر زور دیں گے کہ مسائل اور اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں۔

امریکی صدر سے جپھی کے شوقین مودی کو بتایا جائے گا کہ اس وقت امریکا کی توجہ افغانستان میں امن عمل پر مرکوز ہے، واشنگٹن کی خواہش ہے کہ علاقائی طاقتیں اس عمل میں امریکا کی مدد کریں۔

ٹرینڈنگ

مینو