پراگ: بولتے مجسموں کا شہر

پراگ کا نام سنتے ہی ذہن اس دلفریب شہر کی تاریخ میں کھوجاتا ہے جو اس کی عمارتوں پر بنے نقش ونگار سے کچھ اس انداز سے جھلکتی ہے کہ دیکھنے والا حیران رہ جائے۔

نیوزی لینڈ کا فوٹوگرافر ایمس چیپل 4 برس سے چیک ریپبلک کے دارالحکومت میں مقیم ہے۔ لاک ڈاون کے دوران اسے خیال آیا کہ کیوں نہ عمارتوں پر بنے مجسموں پر نظر ڈالی جائے اور پھر وہ ایک کے بعد دوسری تصویر کھینچتا چلا گیا۔ نیشنل میوزیم پر نصب پروں والا یہ مجسمہ بوہسلاو نے بنایا تھا جو نیچے وینسلاس اسکوائر پر نظر ڈالے ہوئے ہے۔ اس مجسمہ کی 2018 میں مرمت کی گئی تھی۔

اولڈ ٹاون اسکوائر کے کونے کی عمارت پر نصب اس مجسمے میں سینٹ جارج کو اپنی تلوار سے اژدھے کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے۔

پراگ انشورنس کمپنی کی عمارت پر نصب اس مجسمے میں فائرفائٹر ایک خاتون کو سنہری شعلوں سے بچانے میں مصروف ہے۔ یہ بوہسلاو کے تیار کردہ آخری شاہ کاروں میں سے ایک ہے۔

زیزکو ٹیلی وژن ٹاور پر گھٹنوں کے بل چڑھتے اور اترتے ان بچوں کے مجسمے ڈیوڈ سرنی نے بنائے ہیں۔ ساڑھے 3 میٹر لمبے اور 250 کلوگرام وزنی ہر بچے کو 216 میٹر بلند ٹاور پر ایسے دکھایا گیا ہے جیسے وہ زمین پر گھٹلیوں کے بل چل رہے ہوں۔

نیشنل میوزیم ہی کے کونوں پر بنائے گئے یہ مجسمے زمین ، پانی ، آگ اور ہوا کی اہمیت اجاگر کررہے ہیں۔ ان میں ماضی اور سچائی سے محبت کی جھلک ہے جو بوہسلاو کے دلکش مجسموں کی خاص بات ہے۔

فتح کی دیوی نیکے کے اس مجسمے میں  وہ ایک ایسے رتھ پر سوار ہے جسے 3 منہ زور گھوڑے اڑائے لے جارہے ہیں۔ یہ مجمسہ نیشنل تھیٹر کے کارنر پر نصب ہے ، یہ اس مجسمے کی نقل ہے جسے پیتل سے ڈھالا گیا تھا اور 1881 میں آگ نے اسے تباہ کردیا تھا۔

گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی چھت پر نصب یہ مجسمہ ان لوگوں کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے جو علم کے دلدادہ ہیں اور کچھ کر گزرنے کی جستجو میں ہیں۔

نیوسٹی ہال کے کارنر پر نصب یہ مجسمے لادسیلاف کے شاہ کار ہیں۔

کئی عمارتوں پر مشتمل کلیمنٹینم پر نصب یہ مجسمہ اک آسماں سر پہ اٹھائے ہوئے ہے۔ میتھیاس برنارڈ نے یہ مجسمہ 1700 میں بنایا اور زمانے کے نشیب و فراز کے باوجود آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔

اولڈ پراگ انشورنس کمپنی کی چھت پر نصب اس دوسرے مجسمے کو کال فار الارم کا نام دیا گیا تھا ، اس میں ایک خاتون اور بچہ لوگوں کو آگ سے خبردار کر رہے ہیں۔ بوہسلاو اس مجسمے کو مکمل نہیں کر پائے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ اسے ان کے شاگرد لادسیلاف نے مکمل کیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو