بھارتی پولیس کی سرپرستی میں جلاؤ گھیراؤ

بھارتی انتہا پسند بے لگام ہوگئے ، دہلی میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لبرل شہریوں پر حملہ کرکے 7 افراد کو قتل اور درجنوں کو زخمی کردیا گیا، مزار اور مسلمانوں کی درجنوں املاک پھونک دی گئیں۔

انتہا پسندوں نے پولیس کی سرپرستی میں نہ صرف مسلمانوں پر حملے کئے بلکہ دہلی کے علاقے بھاجن پورا میں مزار کو بھی آگ لگادی گئی ، فائرنگ کرکے لوگوں کی جان لی گئی اور پولیس اہلکار بھی انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر مسلم آبادی پر پتھراو کرتے رہے۔

پولیس کی شیلنگ کے باوجود مظاہرین منتشر نہ ہوئے تو انتہا پسند پہنچ گئے، بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے مظاہرین پر حملہ کیا ، گلی گلی لڑائی ہوئی اور مسلمانوں کے گھروں پر حملے کئے گئے۔

اگر کسی پولیس اہلکار نے حملہ آوروں کو روکنا چاہا تو اسے پستول دکھا کر دھمکیاں دی گئیں یا فائرنگ کی گئی۔

اکثر علاقوں میں پولیس بھارتی غنڈوں کی حمایت کرتی نظر آئی اور حکام بتاتے رہے حملہ کہاں اور کس طرح کرنا ہے۔

امن پسند بھارتی شہری بھی حیران ہیں کہ پولیس کیوں پتھراؤ کرتی رہی اور مظاہرین کا ساتھ دیا جاتا رہا۔

بھارتی شہریوں نے ٹویٹر پر ویڈیوز شیئر کرکے ریاستی دہشت گردی بے نقاب کردی۔

ٹوپی پہننے پر صرف اسی نوجوان کو مار پیٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا آر ایس ایس کے غنڈوں کو جہاں جہاں مسلمان نظر آئے ان پر تشدد کیا گیا۔

صورتحال یہاں تک خراب ہوئی کہ پرامن شہریوں کو اپیل کرنی پڑی کہ آرایس ایس کے غنڈوں سے خواتین اور بچوں کو بچایا جائے۔

پولیس خاموش تماشائی بنی تو انتہا پسندوں کے حوصلے بڑھ گئے، مسلمانوں کی درجنوں دکانیں پھونک دی گئیں۔ بھارت میں مسلمان کس اذیت سے دوچار ہیں آئیں ان تصاویر میں دیکھ لیتے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو