چھکے چھڑاتی مہنگائی میں کرکٹ کے چھکے

عمائمہ خان

باؤنڈری کے پار جاتی مہنگائی سے بے حال پاکستانی اگلے چند ہفتے چھکے چوکوں سے لطف اٹھانے کو تیار ہیں ، آٹے اور چینی کی گُگلی سے گھومے دماغوں کو اب کرکٹ کی چمپی لگے گی۔

دال روٹی کے بھاو سے چندھیائی انکھیاں پسندیدہ کھلاڑیوں کو دیکھ کر کھل جائیں گی۔ بجلی اور گیس کے بل پڑھ کر ڈولتے دلوں کی دھڑکنیں سنسنی خیز میچز دیکھ کر تیز ہوجائیں گی، جی جناب بھول جائیں پریشانیاں اور کر لیں تیاریاں۔

اس بار لیگ بھی اپنی ہے ، میدان بھی اپنے ہیں اور ساتھ دینے 36 مہمان بھی پہنچ چکے ہیں۔ پی ایس ایل فائیو  ہے سب سے خاص کیونکہ 2016 میں پردیس سے شروع ہونے والی دیس کی کرکٹ اب مکمل طور پر اپنی زمین پر لوٹ آئی ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے 34 کے 34 میچز پاکستان میں ہی کھیلے جائیں گے، صرف کراچی اور لاہور ہی نہیں ، راولپنڈی اور ملتان کے ویرانوں میں بھی کرکٹ کی ہریالی لہرائے گی اور مرجھائے ہوئے چہروں پر رونق آئےگی۔

22 مارچ تک ہائے مہنگائی کی پکار کے بجائے شہر شہر واہ واہ کا شور ہوگا ، ڈیرن سیمی ، سرفراز احمد ، بابر اعظم ، کامران اکمل ، شین واٹسن ، عثمان شنواری ، شاہین آفریدی، کرس جارڈن ، ایلکس ہیلز ، کیرن پولارڈ ، شعیب ملک ، محمد حفیظ اور بہت سے کھلاڑیوں کے آن فیلڈ اور آف فیلڈ ایکشن ہی پبلک کا ہاٹ ٹاپک ہوگا۔

عوام کا کرکٹ فیور اور انٹرٹینمنٹ اپنی جگہ لیکن پی ایس ایل ینگ ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا بھی زبردست پلیٹ فارم بن چکی ہے ، پاکستان سپر لیگ سے نکلے کئی اسٹارز قومی ٹیم کیلئے کارگر ثابت ہوئے ہیں ، ہر سیزن کی طرح اس بار بھی 6 کی 6 ٹیموں میں ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو پہلی بار پاکستان سپر لیگ کا حصہ بنے ہیں۔ جنھیں میچز میں موقع ملا تو فیوچر اسٹارز بن سکتے ہیں ، ان میں کوئٹہ گلیڈیٹرز کے لیفٹ آرم اسپنر آرش علی خان ، کراچی کنگز کے فاسٹ بالر ارشد اقبال ، اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیفٹ آرم فاسٹ بالر عاکف جاوید اور لاہور قلندرز کے ڈیویلپمنٹ پروگرام میں سامنے آنے والے فاسٹ بالر دلبر حسین شامل ہیں ، بیٹنگ کی بات کریں تو ملتان سلطان میں ذیشان اشرف اور پشاور زلمی میں حیدر علی ایسے نام ہیں جو پہلی بار پی ایس ایل کا حصہ بنے ہیں۔ حیدر علی انڈر نائنٹین ورلڈ کپ بھی کھیل چکے ہیں جبکہ لاہور قلندر کے دلبر حسین بگ بیش کا حصہ رہے ہیں۔۔

چھ لشکروں کے پاس تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ چھ نئے ہتھیار بھی ہیں جنھیں خود کو کارگر ثابت کرنا ہے، ایک اسپنر، دو اوپننگ بیٹسمین اور تین فاسٹ بولرز شاید وہ چھپے رستم ہوں جو پاکستان کی قومی ٹیم کو بھی فائدہ پہنچا سکیں۔

ٹیموں کی بات کریں تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی ، اسلام آباد یونائیٹڈ 2 بار اور پشاور زلمی ایک بار ایونٹ اپنے نام کرچکی ہے۔ ملتان سلطان تھوڑی نئی ہے اور اس بار نئی منیجمنٹ کے ساتھ اترے گی لیکن جیت کا اصل انتظار لاہور اور کراچی والوں کو ہے جن کی آنکھیں پچھلے 4 سال سے ٹرافی کی منتظر ہیں۔ لاہور قلندرز اور کراچی کنگز ایسی ٹیمیں ہیں جن کے مداح ہار کے باوجود کبھی مایوس نہیں ہوتے اور اس بار بھی اپنی ٹیم کی جیت کے لئے پر امید ہیں۔۔

پی ایس ایل فائیو  کرکٹ شائقین کے چہروں پر مسکراہٹ تو بکھیرے گا ہی ساتھ کچھ مایوس کھلاڑیوں کو بھی کارکردگی دکھانے اور لائم لائٹ میں آنے کا موقع دے گا ، سرفراز احمد ، احمد شہزاد ، حسن علی ، شاداب خان اور فخر زمان ایک بار پھر جگمگا سکتے ہیں۔ تو بس پھر چھکے چھڑانے والی مہنگائی کو کرکٹ کے چھکے دکھاؤ ، اسٹیڈیم آؤ ، یا ٹی وی لگاؤ پی ایس ایل دیکھو اور مہینہ بھر لطف اٹھاو ۔۔ پاکستان کو اپنی لیگ اپنے میدان مبارک۔

ٹرینڈنگ

مینو