چین :کورونا کے بعد ہنتا وائرس سے ہلاکت

چین میں ابھی ایک وبا کا عذاب ختم نہیں ہوا تھا کہ نئی بیماری نے سراٹھایا ہے اور ہنتا وائرس سے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی ہے۔ 

ہلاک شخص بس میں اپنے دفتر جارہا تھا کہ اچانک اس کی موت واقع ہوگئی۔ ٹیسٹ کرایا گیا تو ہنتا وائرس مثبت نکلا۔ بس میں موجود دیگر 32 افراد کے بھی ٹیسٹ کرائے جارہے ہیں اور کورونا سے خوفزدہ چینی شہری مزید پریشان ہوگئے ہیں۔

کورونا بیماری چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں پھیلی تھی ، ہنتا وائرس کا کیس یونن صوبے میں سامنے آیا ہے اور متاثرہ شخص نوکری کیلئے شندونگ صوبے جاتے ہوئے چل بسا ہے۔

ہنتا وائرس کے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ چوہوں سے پھیلتا ہے۔ ماضی میں بھی لوگوں کے اس وائرس سے بیمار پڑنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ بھارت کے شہر ممبئی میں 2016 میں ہنتا وائرس کا کیس سامنے آچکا ہے۔ 12 برس کا وہ مریض بھی چل بسا تھا۔

امریکا میں اسے نیوورلڈ ہنتا وائرس کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس میں سانس کی تکلیف لاحق ہوتی ہے ، ایسا بخار بھی ہوسکتا ہے جس کے دوران جسم سے خون آنے لگے، گردوں کا مرض بھی اس کی علامات میں شامل ہے۔

دیگر علامتوں میں تھکن ، ٹانگوں ، کولہوں ، کمر اور کندھوں میں درد ، سردی لگنا، پیٹ میں تکلیف ، سردرد، غنودگی، متلی ، الٹیاں اور ہیضہ شامل ہیں۔ آخری مرحلے میں پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے جس سے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ علامات ایک سے 8 ہفتوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔

بیماری سے ہلاکت کے بعد چینی عوام پریشان ہوگئے ہیں ، ہنتا وائرس چوہوں کے کاٹنے سے نہیں بلکہ پیشاب اور تھوک جیسی چیزوں سے پھیلتا ہے۔ ہنتا وائرس انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوتا۔ یہ صرف اسی صورت لگتا ہے جب چوہوں کی غلاضت ناک منہ یا آنکھوں سے ٹچ ہوجائے۔

ٹرینڈنگ

مینو