کمنگز کے حکم پر عمل نہیں کرسکتا تھا، ساجد جاوید

برطانوی رہنما ساجد جاوید نے وزیراعظم بورس جانسن سے اختلافات کے باعث وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑنے کی تصدیق کردی، رشی سونک کو نیا وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے جو 7 ماہ پہلے تک ہاؤسنگ کے جونیئر وزیر تھے۔

ساجد جاوید نے اپنی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے عہدے پر رہنے کیلئے ٹیم کے 6 ارکان تبدیل کرنا کا کہا گیا تھا۔

ساجد جاوید نے بتایا کہ ان کے پاس استعفے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ کوئی بھی باعزت وزیر وزیراعظم کے ایڈوائزار ڈومینیک کمنگز کے حکم پر یہ کام نہیں کرسکتا۔

وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں ساجد جاوید نے کہا تھا کہ وہ یقین کرتے ہیں کہ رہنماوں کے پاس قابل اعتبار ٹیم ہو۔ رہنماؤں کے پاس ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو انھیں بہترین مشورہ دیں اور انھوں نے ہمیشہ یہی کیا۔ ساجد جاوید بورس جانسن کی کابینہ میں جولائی 2019 سے بطور وزیر خزانہ کام کر رہے تھے۔ پاکستانی نژاد ساجد جاوید کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے پہلی بار 2010 میں برُومز گرُوو سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ وہ بس ڈرائیور عبدالغنی جاوید کے بیٹے ہیں ، اُن کے والدین 1960 کی دہائی میں ساہیوال سے برطانیہ منتقل ہوئے اور ساجد جاوید روچڈیل میں پیدا ہوئے تھے۔

برطانوی وزیراعظم نے ساجد جاوید کی جگہ بھارتی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ رشی سوناک کو وزیر خزانہ مقرر کیا ہے ،

ٹرینڈنگ

مینو