ڈینئل پرل کیس: عمرشیخ کی سزائے موت ختم

امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس کے مجرم برطانوی شہری احمد عمر شیخ کی سزائے موت 7 سات قید میں تبدیل کردی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا اور جسٹس ذوالفقار سانگی پر مشتمل بنچ نے ملزمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سنایا، عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ڈینیل پرل کے قتل کا الزام کسی ملزم پر ثابت نہیں ہوا ، احمد عمر شیخ پر اغوا کا الزام ثابت ہوا ہے۔ عدالت نے 3 ملزمان کو بری جبکہ احمد عمر شیخ کی سزائے موت 7 سال قید میں تبدیل کردی۔

یاد رہے کہ احمد عمر شیخ 7 برس قید رہ چکے ہیں اس لئے ان کی رہائی بھی ممکن ہے۔ استغاثہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے لیکن فی الحال سرکاری موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 2002 میں احمد عمر سعید شیخ عرف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ دیگر ملزمان فہد نسیم ، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ، دیگر ملزمان ہاشم ، عاصم عرف قاسم ، حسن ، احمد بھائی ، امتیاز صدیقی اور امجد فاروقی کو مفرور قرار دیا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے خلاف ملزمان نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی لیکن وکلا کی عدم حاضری اور عدم دستیابی کے باعث ان کی سماعت کئی سال تاخیر کا شکار رہی۔

ٹرینڈنگ

مینو