ڈیکا پروگرام ختم نہیں ہوگا، ٹرمپ کیلئے جھٹکا

امریکا میں آباد غیر قانونی امیگرینٹس کے حق میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ آگیا ، صدرٹرمپ کو ایک اور بڑا جھٹکا لگ گیا۔

چیف جسٹس جان رابرٹس سمیت 4 کے مقابلے میں 5 ججوں نے فیصلہ سنادیا کہ صدرٹرمپ سابق صدر اوباما دور کے ڈیکا پروگرام کو ختم نہیں کرسکتے۔ اس طرح بچپن میں امریکا آنے والے 7 لاکھ افراد کی ملک بدری کا خطرہ ختم ہوگیا۔

من پسند فیصلوں کے خواہش مند صدرٹرمپ مایوس ہوگئے، سوالیہ ٹوئٹ کیا کہ ایسے فیصلوں سے لگتا نہیں کہ سپریم کورٹ آپ کو پسند ہی نہیں کرتی؟

صدرٹرمپ 2012 میں اوباما دور کے اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے تھے جس کے تحت ایسے افراد جو بچپن میں غیرقانونی طورپر امریکا آکر آباد ہوگئے تھے ، انہیں آبائی ممالک ڈیپورٹ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے افراد کو ڈریمرز کہا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سن 2017 میں ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈ ہوڈ ارائیولز پروگرام ختم کرنے کی جو کوشش کی تھی وہ غیر قانونی تھی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جان رابرٹس نے رولنگ میں لکھا کہ انتظامیہ نے پروگرام کے خاتمے کے معاملے کی درست انداز میں پیروی ہی نہیں کی۔  فیصلے کے حق میں ووٹ دینے والوں میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ لبرل چسٹسز رتھ بیڈر گنسبرگ ، ایلینا کیگن، اسٹیون برئیر اور سونیا سوتومیئر شامل ہیں۔ 2 روز پہلے صدر ٹرمپ کو ایک اور جھٹکا لگا تھا جب وائٹ ہاوس انتطامیہ یہ قرار دینے میں بھی ناکام ہوگئی تھی کہ ہم جنس پرست اور ہیجڑوں کو نوکری سے نکالے جانے کے معاملے پر فیڈرل سول رائٹس تحفظ حاصل نہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو