سپریم کورٹ نے ظفر مرزا کو ہٹانے کا کہہ دیا

سپریم کورٹ نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران حکومت سے ڈاکٹر ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا کہہ دیا۔ عدالت نے بین الصوبائی سفر کیلئے کورونا سرٹیفکیٹ کی پابندی سے متعلق پنجاب حکومت کی شرط بھی کالعدم قرار دیدی۔

از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سمجھ نہیں آرہا کیسی ٹیم کورونا پر کام کر رہی ہے، اعلی عہدیداروں پر سنجیدہ الزامات ہیں، ظفر مرزا کتنے شفاف ہیں کچھ نہیں کہ سکتے ، معاونین خصوصی کی فوج ہے اور ان کے پاس وزراء کے اختیارات ہیں ، کئی کابینہ ارکان پر تو جرائم میں ملوث ہونے کے مبینہ الزامات بھی ہیں۔ اٹارنی جنرل بولے عدالت کی آبزرویشن سے نقصان ہوگا ، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریمارکس دینے میں بہت احتیاط کر رہے ہیں ، چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ قانون سازی کرے گی ، انھوں نے ریمارکس دیئے کہ ریاستی مشینری کو اجلاسوں کے علاوہ بھی کام کرنے ہوتے ہیں، کابینہ غیر موثر ہوچکی ہے، وزیراعظم نے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا ہے، کیا پارلیمنٹیرینز ایوان میں بیٹھنے سے گھبرا رہے ہیں،  سپریم کورٹ نے حکومت سے ڈاکٹر ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا کہا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت ان کے کام سے خوش نہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا کے حوالے سے حکم جاری کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانا تباہ کن ہوگا، عدالت یہ معاملہ حکومت پر چھوڑ دے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا لوگوں کو گھروں میں بند کردیا گیا ہے، لوگ بھوک سے تلملا رہے ہیں، ملک انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ  عدالت لوگوں کو بھوکا مرنے نہیں دے سکتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو ہوتا ہے ، کیا کراچی کی متاثرہ 11 یونین کونسلز کے ہر شخص کا ٹیسٹ ہوگا ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ متاثرہ یوسیز کی درست آبادی کا علم نہیں البتہ وہاں دکانیں کھلی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے پلان ہونا چاہئے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا سندھ حکومت نے 9 ارب کا راشن بانٹا لیکن غریب کو پتہ بھی نہیں چلا، ایڈووکیٹ جنرل سندھ بولے 5 لاکھ افراد کو راشن دیا ، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کس کو دیا ہے ، سندھ پولیس تو جے ڈی سی کو لوٹ رہی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگ کہہ رہے ہیں حکومت نے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا۔

ٹرینڈنگ

مینو