کاروبار کا ہفتے سے آغاز ،طلبا پروموٹ

وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ سے لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کورونا سے اموات بڑھ رہی ہیں لیکن کاروبار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قومی رابطہ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد وزیراعظم نے بتایا کہ اقتصادی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے، لوگ بے روزگار ہورہے ہیں، حکومت لاک ڈاؤن کے اثرات برداشت نہیں کرسکتی۔ ہر چیز کیلئے ایس او پیز بنائے جارہے ہیں ، اب لوگوں کی ذمے داری ہے کہ وہ قواعد پر عمل کریں، شہریوں نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو دوبارہ سب کچھ بند کرنا پڑے گا۔

عمران خان نے کہا کہ اگرچہ صوبوں کو خدشات ہیں لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کھلنی چاہئے اس سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا۔ افسوس ہوتا ہے جب لوگ کہتے ہیں کورونا سے لوگوں کی جانیں خطرے میں ہیں، لاک ڈاؤن میں نرمی دراصل متوازن اقدام ہے۔

وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اسد عمر اور وزیرصنعت و پیداوار حماد اظہر نے بتایا کہ تعمیراتی صنعت سے متعلقہ تمام کاروبار کھولنے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا، پینٹ بنانے کی فیکٹریاں اور دکانیں، ٹائلز کی صنعت اور دکانیں ، الیکٹریکل کیبل ، اسٹیل اور ایلومینئم سے متعلق کاروبار اور ہارڈویئر اسٹورز کھولے جائیں گے۔

وفاقی وزرا کا کہنا تھا کہ تمام چھوٹی مارکیٹس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے اور دکانیں فجر سے شام 5 بجے تک کھولی جاسکیں گی۔ ہفتے میں 2 دن کاروبار بند رکھنا ہوگا، اس دوران صرف وہی دکانیں کھلیں گی جنھیں لاک ڈاؤن کے دوران اجازت تھی، اسپتالوں میں چند او پی ڈیز بھی کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیرتعلیم شفقت محمود نے اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعلیمی ادارے یکم جون کو نہیں کھلیں گے اور 15 جولائی تک بند رہیں گے، نویں ، دسویں ، گیارویں اور بارہویں کے بورڈ امتحانات نہیں ہوں گے اور طلبا کو پچھلے سال کا رزلٹ دیکھ کر پروموٹ کیا جائے گا۔

شفقت محمود نے ٹویٹ میں بتایا کہ یونیورسٹیز امتحانات کے شیڈول کا فیصلہ اپنی پالیسیز ، ہائرایجویشن کمیشن کے ایس او پیز اور ہدایات کے مطابق کریں گی۔

ٹرینڈنگ

مینو