تفتان: زائرین کو ایک ہفتے قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ

حکومت نے ایران سے واپس آنے والے زائرین کو ایک ہفتے تک قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ دونوں افراد کی حالت بہتر ہونے لگی، مریضوں کے تمام رشتے داروں اور ملنے والوں میں کورونا وائرس نہیں پایا گیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بلوچستان کے ضلع تفتان اور دالبندین کا دورہ کیا اور وزیراعلی جام کمال سے بھی ملاقات کی،انھوں نے بتایا کہ ایران جانے کے خواہش مند 273 افراد نے فیصلہ تبدیل کرلیا اور اب وہ ایران جانا نہیں چاہتے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا اور جام کمال کی ملاقات میں طے کیا گیا کہ تفتان کے پاکستان ہاؤس میں فوری طور پر آئیسولیشن وارڈ قائم کیا جائے گا ، ایک ہزار زائرین کو روزانہ اسکریننگ کے بعد وطن آنے دیا جائے اور ایک ہفتہ تک قرنطینہ میں زیرنگرانی رکھا جائے گا۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر کسی زائر میں وائرس کی علامات پائی گئیں تو اسے مزید تشخیص کیلئے آئسولیشن وارڈ میں رکھا جائے گا۔ بلوچستان حکومت نے تفتان میں قرنطینہ اور تفتان اور دالبندین میں آئسولیشن وارڈ بنانے کیلئے 200  ملین روپے بھی جاری کردیئے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں اور صورتحال پر بریفنگ لی، انھوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں کورونا وائرس کی تشخیص کی جدید لیبارٹری قائم کردی گئی ہے جہاں روزانہ 100 ٹیسٹ کرنا ممکن ہوگا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے تصدیق کی ہے کہ کراچی اور اسلام آباد میں زیرعلاج مریض صحت یاب ہورہے ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی اور اسلام آباد میں زیرعلاج دونوں مریضوں نے چند روز پہلے ایران کا سفر کیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو