کراچی : دکانیں کھلتے ہی بند، مسئلہ ہے کیا؟

آن لائن کاروبار کی اجازت دیئے جانے کے باوجود کراچی پولیس نے تاجروں کو دکانیں کھولنے سے روک دیا۔

صدر الیکٹرونکس اور موبائل مارکیٹ میں کاروباری افراد نے دکانیں کھولنا چاہئیں تو لوگوں کا ہجوم لگ گیا، اس دوران پولیس اہلکاروں نے دکانداروں کو کاروبار سے روک دیا۔

کاروباری افراد نے زبرنیوز کو بتایا کہ پولیس نے انھیں ڈی سی سے اجازت نامہ لانے کا کہا ، وہاں گئے تو اسسٹنٹ کمشنر کے پاس بھیج دیا گیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر آفس میں موجود ہی نہیں تھے ، دکانداروں نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ اجازت دینی ہے تو دیں ذلیل نہ کیا جائے۔

آل سٹی تاجر اتحاد نے ایس او پیز پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی ، اس کے بعد حکومت نے پیر تا جمعرات صبح 9 سے دوپہر 3 بجے تک آن لائن کاروبار کی اجازت دے دی تھی۔ شرائط کے مطابق کاروبار کیلئے محکمہ داخلہ اور کمشنر کراچی کو ایس او پیز پر عملدرآمد کی انڈر ٹیکنگ جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا تھا، حکومت نے کاروبار کے دوران شٹر صرف ڈیلیوری کے وقت کھولنے کی اجازت دی تھی اور واضح کردیا تھا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہوا تو دکان سیل کردی جائے گی۔

اب صدر انجمن تاجران بولٹن مارکیٹ رفیق جدون نے آن لائن کاروبار کا فارمولہ مسترد کردیا ہے، وہ کہتے ہیں حکومتی اقدامات معاشی قتل کے مترادف ہیں جبکہ کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے واضح کیا ہے کہ صرف شٹر بند رکھ کر اور ایس او پیز پر عمل کرکے ہی کاروبار کیا جاسکتا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو