کوئی تو ہے ! کائنات کی حیران کن تصاویر

پراسرار خلا کے پردے چاک کرنے والی ہبل ٹیلی اسکوپ کو مدار میں چکر لگاتے 30 برس مکمل ہوگئے ، اس موقع پر ناسا نے ہبل کی کھینچی گئی انتہائی اہم تصاویر جاری کردی ہیں جن میں ستاروں کے ٹوٹنے کا عمل بھی دکھایا گیا ہے۔

ہبل ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی کہکشاں کو اس دلکش انداز میں پیش کیا ہے کہ ان کی مدد سے کئی الجھی گتھیاں سلجھانے میں مدد ملی ہے۔

ہبل ٹیلی اسکوپ 1990 سے مدار میں گھوم رہی ہے اور اس نے خلا اور نظام فلکی سے متعلق دنیا کی معلومات میں بیش بہا اضافہ کیا ہے۔

مشتری پر طوفان کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس تصویر میں واضح ہے کہ مشتری کی سطح  کو بڑے طوفان کا سامنا ہے ، اس پر آندھی کی رفتار کا اندازہ تقریبا 700 کلومیٹر فی گھنٹہ لگایا گیا تھا۔

ہبل ٹیلی اسکوپ نے 11 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع کہکشاں بھی عمدہ انداز سے پیش کی تھی ، اس سے کائنات کی ابتدا کو سمجھانے میں مدد ملی۔ ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ رات کو یہ ایک کہکشاں 12 ہو کر نظر آتی ہے۔

ایسٹیرائیڈ فوٹو بم کا نظارہ بھی پر معنی ہے۔ ابتدا میں یہ تصویر بلیک اینڈ وائٹ جاری کی گئی تھی مگر ایک ماہر فلکیات نے انتہائی محنت سے اسے رنگین بنا دیا۔

بھوتوں کی شکلوں جیسے ستاروں کو بھی ہبل ٹیلی اسکوپ نے اپنے کیمرے میں قید کیا ہے۔ تصویر دیکھنے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ بھوت کی شکلوں والے چکمتے ستارے اسی کو گھور رہے ہیں لیکن یہ درحقیقت کہکشاوں کے ٹکراو کا منظر ہے۔

پراسرار پہاڑ بھی ہبل ہی نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ 3 نوری سال کے فاصلے جتنا بلند یہ ستون دراصل گیسوں اور گردو غبار پر مشتمل ہے اور زمین سے 7 ہزار 500 نوری سال کی دوری پر واقع ہے۔

گھوڑے کے سر جیسا نیبولا دیکھنا بھی اسی دوربین کی مدد سے ممکن ہوا تھا۔ یہ تصویر 2013 میں کھینچی گئی تھی۔ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ 50 لاکھ سال بعد یہ نیبولا ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔

وائرل پول کہکشاں  کو یہ نام گھومتے ہوئے اجسام کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ اس کے بازوں کو ستارے بنانے والی فیکڑیاں کہا جاتا ہے کیونکہ ان حصوں میں ہائیڈروجن گیس کمپریس ہوتی ہے اور نئے ستاروں کے کلسٹر بناتی ہے۔ یہ تصویر 2005 میں لی گئی تھی۔

ٹرینڈنگ

مینو