کورونا:پاکستان کااللہ مالک

کورونا وائرس ملک بھر میں پھیل چکا ہے، اموات اور مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، ایسے میں امریکی اخبار کی رپورٹ نے پاکستان میں محکمہ صحت کو آئینہ دکھا دیا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق وفاق اور صوبائی حکومتوں میں کورونا سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلافات ہیں ، وزیراعظم نے عالمی صورتحال اور ڈاکٹروں کی رائے نظر انداز کردی ، عمران خان نے لاک ڈاؤن کے بجائے سماجی فاصلے پر زور دیا تو انھیں سائیڈ لائن کرکے لاک ڈاؤن کردیا گیا لیکن لگتا ہے اب بہت دیر ہوچکی ہے۔

اخبار کے مطابق ڈاکٹر مناسب آلات اور ٹیسٹنگ کٹس کیلئے احتجاج کر رہے ہیں ، نوبت یہ ہے کہ کئی ڈاکٹروں نے کام سے ہی انکار کردیا ہے۔

ڈاکٹروں کے علاوہ کئی علما بھی لاک ڈاؤن پر تیار نہیں اور مساجد میں اجتماعات مکمل بند کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ اخبار کے مطابق رائے ونڈ اجتماع سے بھی ملک میں وبا پھیلی، 2 کرغز شہریوں اور 2 فلسطینیوں نے رائے ونڈ سے وطن جا کر کورونا پھیلایا۔

اخبار کے مطابق ملک کو بڑے چیلنج کا سامنا ہے لیکن عوام حکومتی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے ، لوگ دن بھر گلیوں میں بیٹھے رہتے ہیں جبکہ چھوٹے گھروں اور فلیٹس میں مناسب قرنطینہ ممکن نہیں۔

کراچی کے سرکاری اسپتالوں کے آئی سی یو میں صرف 6 سو بستر ہیں جبکہ ملک بھر میں صرف 17 سو وینٹی لیٹرز ہیں۔ 22 کروڑ آبادی والے اس ملک میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کیلئے پچھلے ہفتے تک این نائنٹی فائیو ماسک کی تعداد صرف 15 ہزار تھی۔ ایسے میں کورونا پھیلا تو صحت کا ابتر نظام مکمل بیٹھ جائے گا۔

اخبار کے مطابق شہریوں کو خدشہ ہے کہ اموات اور بیماروں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ کورونا ٹیسٹنگ کا فقدان ہے اور بعض حالات میں درست انفارمیشن نہیں دی جارہی۔ اخبار نے دعوی کیا کہ ایک اسپتال میں ایسی خاتون کا ٹیسٹ کیا گیا جس میں کورونا کی علامات تھیں۔ وہ انتقال کرگئی لیکن ڈاکٹروں اور نرسوں تک کو اس خاتون کے کورونا ٹیسٹ نتائج نہیں دکھائے گئے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ مناسب آلات کے بغیر کورونا سے جنگ لڑتے طبی عملے کو یقین ہے کہ اللہ انھیں اس وائرس سے محفوظ رکھے گا۔  نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پاکستان ابھی کتے کے کاٹنے سے پیدا بیماری ریبیز اور پولیو کا خاتمہ نہیں کرسکا۔ ایسے میں کورونا وبا سے نمٹنا بہت بڑا چیلنج ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو