کورونا : سائنسدانوں نے بڑا خدشہ بتادیا

کورونا وائرس تو صرف آغاز ہے ، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ  ابھی آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا کیونکہ انسان نے کچھ ایسا کیا ہے جس کے نتائج بھگتنے کیلئے اسے تیار رہنا چاہئے۔

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ جنگلات کی کٹائی ، جنگلی جانور کھانا اور ان سے ادویات بنانا خرابی کی جڑ ہے ، صحت مند ماحولیاتی نظام کے بغیر انسان کا صحت مند رہنا ممکن نہیں۔ اگلی وبا کسی بھی وقت پھوٹ سکتی ہے اور اس کیلئے تیاری کی جانی چاہئے۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے نے انسانوں کو جنگلی حیات کے قریب کرکے نئے وائرس کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

بعض سرپھرے خود کو بہادر اور منفرد دکھانے کیلئے ایسے جانور بھی کھا جاتے ہیں جنھیں عام شخص کھانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ نیشنل جیوگرافک کمپین فار نیچر کے میرین ایکولوجسٹ انرک سیلا کے مطابق ہمیں وبائی امراض اور فطرت کے درمیان تعلق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ 30 برس میں دنیا کی آبادی میں 2 ارب افراد کا اضافہ ہو گا یعنی 2050 میں دنیا کی آبادی 10 ارب کے قریب پہنچ جائے گی۔ اس کے نتیجے میں غذائی قلت بڑھے گی اور انسان کو جنگلی حیات  پر مزید انحصار کرنا پڑے گا ، یہ جنگی حیات ایسے مہلک پیتھوجنز کی حامل ہوتی ہیں جن کی بہت سی اقسام سے انسان اب تک محفوظ رہا ہے۔

انفیکشیس بیماریوں کے ماہر ڈیوڈ کوامین کے مطابق ہمارے ماحولیاتی نظام میں جنگلی جانور ، پودے ، فنگس اور بیکٹریا ہیں۔ ان جانداروں اور ان کے اطرف بہت سے ایسے وائرس ہیں جو انسانوں میں منتقل ہو کر تباہی لا سکتے ہیں۔ ووہان کی وائلڈ مارکیٹ سے کورونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات کی تصدیق تو نہیں ہوئی تاہم چین نے جنگلی جانوروں کے کھانے پر پابندی لگادی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب دیگر ممالک کو بھی ایسے ہی اقدامات کرنے چاہئیں۔

ٹرینڈنگ

مینو