کورونا : متوازن اقدامات ناگزیر،وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی روک تھام اور لوگوں کو بھوک سے بچانا بھی ضروری ہے، غربت کی وجہ سے متوازن اقدامات کرنے ہیں۔

وزیراعظم نے ٹوئٹ میں کہا کہ لاک ڈاؤن سے تباہی روکنے کیلئے زرعی شعبہ کھلا رکھا ہے اور اب تعمیراتی شعبہ بھی کھول رہے ہیں۔ کورونا کا پھیلاو روکنے کیلئے تعلیمی ادارے ، شاپنگ مالز، شادی ہال اور ریسٹورنٹ بند کئے ، عوامی اجتماعات پر پابندی لگائی۔

عمران خان نے جمعہ کو کنسٹرکشن کے شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دینے ، اس سے منسلک سیکٹرز کھولنے اور تعمیراتی صنعت کیلئے فکسڈ ٹیکس کا اعلان کیا تھا، انھوں نے بتایا تھا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ بنایا جارہا ہے، اس سال تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدنی نہیں پوچھے جائیں گے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ نئے پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں تعمیرات کرنے والوں کو 90 فیصد ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔ اسٹیل اور سیمینٹ کے علاوہ تعمیراتی مواد اور خدمات پر سروسز ٹیکس نہیں لیا جائے گا، اب ملک بھر میں گھر بیچنے پر کیپٹل گین ٹیکس نہیں لگے گا۔ صوبوں کے ساتھ مل کر سیلز ٹیکس کم کیا جارہا ہے ، پنجاب اور خیبرپختونخوا یہ ٹیکس 2 فیصد پر لے آئے ہیں۔

وزیراعظم نے مکمل لاک ڈاؤن کو ناممکن قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پولیس 22 کروڑ افراد کو گھروں میں بند نہیں کرسکتی، ہر شخص تک خوراک پہنچانا ممکن نہیں ، لاک ڈاؤن سے بہت برے حالات ہوگئے ہیں اور لوگ گھروں سے نکلنے کیلئے تیار ہیں ، لاک ڈاؤن اس وقت کامیاب ہوگا جب پورے ملک میں ہو اور لوگوں کو کھانا فراہم کیا جائے۔

ٹرینڈنگ

مینو