کورونا جسم کے ساتھ کرتا کیا ہے ؟

معروف اطالوی فارموکالوجسٹ اننا لیسا نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اپنے تجربات سے یہ بات معلوم کرلی ہے کہ کورونا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو کر کس طرح تباہی مچاتا ہے۔

اننالیسا کے مطابق کورونا وائرس جسم میں ہیموگلوبن کو تباہ کرتا ہے۔ اس طرح خون کے سرخ خلیے جسم کو آکیسجن فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتے اور مریض ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سینڈروم کا شکار ہوجاتا ہے۔

اننالیسا کا تھیسز درست ثابت ہوا تو کئی اہم سوالوں کا جواب ملنا آسان ہوجائے گا۔ مثلا یہ کہ مرد  اور خاص طور پر زیابیطس کے مریض ہی کورونا وائرس سے زیادہ بیمار کیوں ہوتے ہیں ؟ اور حاملہ خواتین اور بچوں کے بیمار ہونے کی شرح کم کیوں ہے ؟ ان کی تحقیق کے سبب موثر دوا کی تیاری میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

اننالیسا کا کہنا ہے کہ وائرس کو اپنی بقا اور ایک سے 2 اور 2 سے 4 ہونے کیلئے پورفائرینز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے یہ ہیموگلوبن پر حملہ کرتا ہے۔ اس طرح جسم کو آکسیجن کی مناسب مقدار نہیں مل پاتی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تعداد بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں پھیپھڑوں کے خلیوں میں مدافعتی نظام بہت زیادہ فعال ہوتا ہے اور پھپھڑے سوجھ جاتے ہیں، اسے کوویڈ 19 نمونیا کہا جاتا ہے۔

فارما کولوجسٹ کا کہنا ہے کہ خون میں ہیموگلوبن کی مقدار انفیکشن کی نوعیت جاننے کا بہترین پیمانہ ثابت ہوسکتی ہے۔ مردوں میں ہیموگلوبن کی مقدار خواتین سے زیادہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے کورونا وائرس مردوں کو زیادہ شکار بناتا ہے۔ حاملہ خواتین اور بچوں میں کورونا بیماری کی شرح کم ہونے کی بھی ممکنہ طور پر یہی وجہ ہے کیونکہ ان میں ہیموگلوبن کی مقدار کم ہوتی ہے اور وائرس کو اسے حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

اٹلی کے نامور سائنسدان اب اننالیسا کی تھیوری کا جائزہ لے رہے ہیں۔ لززارو اسپللنزانی نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انفیکشیئس ڈیزیزز کے سائنٹیفک ڈائریکٹر ڈاکٹر جو سیپپے ایپولیتو نے اینالیسا کی تھیوری کو اہم قرار دیا ہے مگر کہا ہے کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو