امریکا میں ہلاکتیں 69،ایران میں 724

کورونا دنیا بھر میں 6 ہزار 525 افراد کی جان لے چکا ہے ، تقریبا ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔ اٹلی میں 1809، اسپین میں 294 ، فرانس میں 127، برطانیہ میں 36 ، نیدر لینڈز میں 20 ، امریکا میں 69 اور ایران میں 724افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ 

کورونا شہروں میں قبرستان جیسا سناٹے کا باعث بن گیا، لوگوں نے بلاضرورت گھروں سے نکلنا چھوڑ دیا، اٹلی میں لومبارڈے اور میلان سب سے زیادہ متاثر ہیں ، لاک ڈاون کے بعد ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں سڑکیں سنسان ہیں۔

چند دنوں میں 18 سو سے زائد اطالوی شہری موت کی آغوش میں جاچکے ہیں۔ کئی صحت یاب ہوگئے لیکن 20 ہزار سے زائد افراد اب بھی اسپتالوں میں تڑپ رہے ہیں۔

ویٹی کن نے اعلان کیا ہے کہ ایسٹرویک کی اجتماعی تقریب نہیں ہوسکے گی، گزشتہ اتوار کو بھی پاپائے روم نے ویڈیو لنک سے خطاب کیا تھا۔

فرانس میں بھی اٹلی اور اسپین کی طرح کیسز بڑھ رہے ہیں ، کورونا فرانس میں 127 افراد کی زندگیوں کا خاتمہ کرچکا ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچز کی جواں سال اہلیہ بگونا گومیز بھی کورونا کی شکار ہوگئی ہیں ، ملک میں تمام تفریحی مقامات اور ریستوران بند ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

جرمنی میں ابتک ہلاکتوں کی تعداد 13 ہے ، حکومت نے وائرس کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات اٹھانے شروع کردیئے ہیں، فرانس ، آسٹریا ، سوئٹزرلینڈ اور لیکسمبرگ کی سرحدوں سے ملازمین اور سامان کی نقل و حمل کے علاوہ آمد و رفت بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

نیدرلینڈ میں 6 اپریل تک اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ بارز ، اسپورٹس کلب اور کافی شاپس بھی بند کرادی گئی ہیں۔ آئرلینڈ میں بھی تمام بار 29 مارچ تک بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

برطانیہ میں وبا سے 35 افراد کی ہلاکت کے بعد بزرگ شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دیئے جانے کا امکان ہے ، برطانوی میڈیا کے مطابق بیمار نہ ہونے کی صورت میں بھی 70 برس سے زائد عمر کے افراد کو 4 ماہ تک گھروں میں رہنے کی ہدایت دی جائے گی۔

نیوزی لینڈ میں سانحہ کرائسٹ چرچ کو ایک سال ہوگیا لیکن یادگاری تقریب کورونا وائرس کا پھیلاو روکنے کیلئے ملتوی کرنا پڑی ، پاکستانی شہری کثرت رائے ولنگٹن میں پارلیمنٹ کی عمارت سے کرائسٹ چرچ تک پیدل امن مارچ کرکے پہنچے ، اس موقع پر پاکستانی ہائی کمشنر سمیت چند افراد نے شہدا کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔

امریکا بندش کے راستے پر چل پڑا ، نیویارک سٹی میں بارز ، نائٹ کلب اور ریسٹورنٹس 31 مارچ تک بند کرنے کا اعلان کردیا گیا ، لاس اینجلس میں بھی ریسٹورنٹ ، جم اور سنیما بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سیاسی رہنما صدر ٹرمپ سے بھی مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کررہے ہیں، کینیڈا میں اگرچہ کوئی نئی ہلاکت نہیں ہوئی لیکن ایک ہی دن میں 65 کیسز رپورٹ ہونے سے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

ایران میں ہلاک افراد کی تعداد سوا 7 سو تک پہنچ گئی ہے اور وائرس پر قابو پانے کی تمام کوششیں ناکام ہورہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ عراق نے ایران اور کویت کی زمینی سرحدوں سے کمرشل ٹریڈ میں تاحکم ثانی توسیع کردی ہے، حکام کو دارالحکومت بغداد میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے 24 مارچ تک کرفیو بھی لگانا پڑا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو