امریکی اور برطانوی حکام سوچتے رہ گئے، چین بازی لے گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سوچتے رہ گئے ، چین سے بڑی اور امید افزا خبر آگئی۔ حکام نے اگلے ماہ تک کورونا وائرس کی ویکسین استعمال کرنے کا امکان ظاہر کردیا ہے۔

چائنا نیشنل ہیلتھ کمیشن میں ٹیکنیکل ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر زینگ زونگ وی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ سائنسدان 5 طریقے استعمال کرکے قوت مدافعت بڑھانے کیلئے ویکسین کی تیاری کر رہے ہیں، اس کا تجربہ ابھی جانوروں پر کیا جارہا ہے۔ امید ہے اپریل تک یہ ویکسین کلینیکل اور ہنگامی حالت میں استعمال کی جاسکے گی۔

چین کے صدر ویکسین کی تیاری میں بے انتہا دلچسپی لے رہے ہیں اور سائنسدانوں سے بریفنگ بھی لے چکے ہیں، زینگ زونگ وی نے بتایا کہ کورونا نیا وائرس ہے اس لئے اسے سمجھنے میں کچھ وقت لگ رہا ہے اور تحقیق مسلسل جاری رکھنے پڑے گی۔

برطانوی حکومت بھی ویکسن کی فوری تیاری چاہتی ہے لیکن ایسا ممکن نہیں۔ برطانیہ کے معروف ڈاکٹر رچرڈ ہیچٹ کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسن کی تیاری میں 12 سے 18 ماہ لگ سکتے ہیں اور اس کام پر 2 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

ڈاکٹر رچرڈ نے یہ بھی بتایا کہ چین کا دورہ کرنے والے عالمی ادارہ صحت کے اہلکار جانتے ہیں یہ وائرس کتنا خطرناک ہے۔ کورونا صورتحال کی جنگ عظیم دوم سے مشابہت پاگل پن نہیں ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ فارما سیوٹیکل اور بائیوٹیک کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات کے دوران وائرس سے نمٹنے کے امریکی ماہر ڈاکٹر ٹونی سے الجھ پڑے تھے۔ ڈاکٹر ٹونی نے کہا تھا کہ کورونا ویکیسن کی تیاری میں ایک سال لگے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ چند ماہ میں تیار کی جائے تاہم ڈاکٹر نے واضح کردیا تھا کہ اتنی جلدی ویکسین کی تیاری ممکن نہیں ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو