کورونا پر قابو پانے کا مثالی طریقہ

قرۃ العین

جنوبی کوریا نے کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے ایسے اقدامات کئے ہیں جو دنیا کے لیے مثال بن گئے ہیں۔ اب کئی ترقی یافتہ ممالک بھی جنوبی کوریا کی پیروی کر رہے ہیں۔

کورونا کے خلاف سب سے پہلا اور موثر ہتھیار معلومات کی درست فراہمی بنا۔ جنوبی کوریا کے حکام نے اموات اور مریضوں کی تعداد کو انتہائی شفاف انداز  سے پیش کیا ، اس سے لوگوں کو مرض کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور انہوں نے بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کردیں۔

جنوبی کوریا کے حکام نے عوام کی آگاہی کیلئے نہ صرف میڈیا پر مہم چلائی بلکہ اسے موثر بنانے کیلئے اشاروں کی زبان کا بھی سہارا لیا گیا۔ ٹی وی پر جو معلومات دی گئیں انہیں زبانی ہی فراہم نہیں کیا گیا بلکہ واضح اور آسان انداز میں لکھ کر بھی دکھایا گیا ، اس سے ٹی وی دیکھنے والوں کے ذہنوں میں چیزیں نقش ہوگئیں۔

کورونا کا پتا چلانے کیلئے ڈائیگنوسٹک کٹس بھی بروقت تیار کی گئیں۔ مقامی طور پر تیاری کے سبب یہ کٹس نہ صرف سستی رہیں بلکہ یہ اس قدر عمدہ ہیں کہ کورونا وائرس کا سوفیصد پتا چلانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

جنوبی کوریا میں 18 ہزار سے زائد افراد کا روزانہ ڈائیگنوسٹک ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ ابتک 2 لاکھ سے زائد افراد کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔ یعنی ہر 260 میں سے ایک شہری کا ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ ایسے افراد کے بھی ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں جن میں بیماری کی علامات کا شائبہ تک نہیں۔

حکومت نے ڈرائیو تھرو ٹیسٹ کا نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے لوگ صرف 10 منٹ میں اپنا کورونا ٹیسٹ کرا سکتے ہیں۔ ملک بھر میں ایسے 50 ڈرائیو تھرو نظام متعارف کرائے گئے ہیں جس سے اسپتالوں پر دباو کم ہوگیا ہے۔

دیگر ممالک کے مقابلے میں جنوبی کوریا میں شہریوں کا ٹیسٹ کئے جانے کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ شہریوں ہی نہیں غیرملکیوں کا ٹیسٹ بھی مفت ہے اور طبی سہولتیں بھی مفت ہی فراہم کی جارہی ہیں ، اس کی وجہ سے لوگوں کی جیب پر غیر ضروری بوجھ نہیں پڑ رہا۔

حکومت  اسپتالوں میں قرنطینہ بھی مفت فراہم کررہی ہے۔ ایسے مریض جو گھروں میں رہنے کو ترجیع دے رہے ہیں انہیں وظیفہ دیا جا رہا ہے تاکہ ملازمت پر نہ جانے کی وجہ سے ان کی آمدنی میں کمی نہ آنے پائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات ان افراد کی ہوئی ہیں جو عمر رسیدہ تھے یا پہلے ہی کسی مہلک بیماری میں مبتلا تھے۔ ہرممکن شخص کا ٹیسٹ کرنے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد دیگر ممالک سے کہیں زیادہ سامنے آئی ہے کیونکہ زیادہ تر متاثرہ ممالک میں ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولت مفت فراہم نہیں کی جارہی۔

حکومت نے شہریوں کی نقل وحرکت پر زیادہ پابندیاں عائد نہیں کیں ، یہی وجہ ہے کہ شہری افراتفری کا شکار نہیں ہوئے۔ سوائے چین کے کسی بھی ملک کیلئے سفری پابندیاں عائد نہیں کی گئی ہیں۔اس لئے مواصلات کا نظام پوری طرح فعال ہے اور اس سے وابستہ افراد کی ملازمتیں بھی محفوظ ہیں۔

متاثرہ ممالک سے آنیوالے افراد کے جنوبی کوریا میں ایئرپورٹس پر ٹیسٹ لئے جارہے ہیں تاکہ کورونا مریضوں کی شناخت کرکے علاج کیا جاسکے۔ آنے والے مسافروں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ ایک ایپ اپنے اسمارٹ فون پر ڈاون لوڈ کریں اور اس کے ذریعے اپنی صحت سے متعلق حکومت کو مسلسل آگاہ رکھیں۔ ایسے مسافروں میں 2 روز تک علامات سامنے آنے پر انہیں فوری طور پر علاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے جبکہ بیمار افراد کو آنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

جنوبی کوریا کے یہ اقدامات دنیا کیلئے مثال بنے ہوئے ہیں تاہم ان کیلئے سیئول کو نہ صرف خطیر رقم خرچ کرنی پڑی بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا بھی ذہانت سے بروقت استعمال ممکن بنانا پڑا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو