کورونا: چین کا ٹرمپ پر کارٹون ، ویڈیو

کورونا وائرس کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل چین پر الزامات لگا رہے ہیں ، چین کے صدر اور وزیراعظم تو مدبرانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں مگر سرکاری میڈیا نے امریکی صدر کے لتے لینے شروع کردیئے ہیں۔ عام کہانیاں تو ایک دفعہ کا ذکر تھا سے شروع ہوتی ہیں اور یہ ویڈیو ایک بار وائرس کے معاملے پر سے شروع کی گئی ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا پر اینی میٹڈ ویڈیو جاری کی گئی ہے۔ اس میں کورونا پھیلنے کی کہانی لیگو پیسیز  کی زبانی پیش کی گئی ہے۔ ایک کردار امریکا کا مجسمہ آزادی ہے جسے صدر ٹرمپ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دوسرا کردار چینی جنگجو کا ہے جو ماسک لگائے ہوئے ہے۔ اس ویڈیو کے ذریعے چین میں وبا پھیلنے سے آج تک کی صورتحال کو انتہائی دلچسپ انداز سے پیش کرکے امریکی صدر کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

ڈائیلاگ کا آغاز چینی جنگجو کے اس جملے سے ہوتا ہے کہ چین نے انتہائی خطرناک وائرس کا پتا چلا لیا ہے۔ امریکا کا مجسمہ آزادی اس اہم بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ محض زکام پیدا کرنے والا وائرس ہے جس کے خلاف ماسک کی ضرورت نہیں (صدرٹرمپ نے اب تک ماسک پہننے سے گریز کیا ہے) ، جنگجو جب لوگوں کو گھر میں رہنے کی ہدایت کرتا ہے تو مجسمہ آزادی اس کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ یہ اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ویڈیو میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ چین کے بار بار خبردار کرنے پر بھی ٹرمپ انتظامیہ نے کورونا وبا کے معاملے پر کان نہیں دھرے۔ جب امریکا میں وبا نے تباہی مچائی تو غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام لگا کر توپوں کا رخ چین کی طرف کردیا گیا۔ مجسمہ آزادی کو صدر ٹرمپ کا یہ بیان بھی دہراتے دکھایا گیا ہے کہ کورونا وبا اپریل میں جادو کی طرح غائب ہوجائے گی، حقیقت یہ ہے کہ اپریل میں اموات کی تعداد 65 ہزار ہوگئی ہے۔

اینی میشن میں امریکی صدر کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے چین کی پیش کردہ غلط معلومات کو آگے بڑھایا اس لیے اس کی فنڈنگ بند کردینی چاہئے۔

ٹرینڈنگ

مینو