کورونا: کراچی میں ڈاکٹر کا انتقال ، تحقیقات جاری

کراچی میں کورونا کے باعث ڈاکٹر کی موت سے اسپتالوں کی ابتر صورتحال واضح ہوگئی۔ سندھ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

60 سال کے ڈاکٹر فرقان کا 3 مئی کو انتقال ہوا تھا وہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز سے ریٹائر ہو کر نجی اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ مرحوم کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر ہیں۔

شہر میں کورونا مریضوں کی تعداد بڑھنے کے باعث ڈاکٹر فرقان کیلئے ایس آئی یو ٹی اور انڈس اسپتال سمیت کسی طبی مرکز میں وینٹی لیٹر دستیاب نہ ہوسکا۔ گھر والے 2 گھنٹے وینٹی لیٹر کی تلاش میں دھکے کھاتے رہے اور پھر لاش اوجھا اسپتال پہنچانا پڑگئی۔ سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد سندھ حکومت نے موت کے اسباب جاننے کیلئے تحقیقاتی کمیٹی بنادی اور 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔

زبرنیوز کی تحقیق کے مطابق سندھ میں اس وقت 350 وینٹی لیٹرز ہیں لیکن 70 سے زائد خراب ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی کے شہر کراچی میں صرف 150 وینٹی لیٹرز ہیں اور سول اسپتال کے تمام آٹھوں وینٹی لیٹرز فعال نہیں۔

کورونا مریض کیلئے بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر میں 12 ، انڈس اسپتال میں 15 ، جناح اسپتال میں 12 ، ایس آئی یو ٹی میں 15 اور اوجھا اسپتال میں 14 وینٹی  لیٹرز موجود ہیں۔ شہر میں متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ، وینٹی لیٹرز نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان کی خریداری کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو