سہولتوں کا فقدان اور کڑا امتحان

تحریر: معصومہ تقی

لاہور کے دلسوز واقعے نے دل دہلا کر رکھ دیئے، میواسپتال کے کورونا آئیسولیشن وارڈ میں شیخوپورہ کا 70 سالہ مریض محمد حنیف ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگیا، جہاں اس واقعے کو ڈاکٹروں کی غفلت قرار دیا جا رہا ہے وہیں یہ بات زیادہ پریشان کن ہے کہ یہ کڑے امتحان کی ابتدا ہے۔

امریکا اور یورپ میں مریض اس قدر زیادہ ہیں کہ وینٹی لیٹرز کم پڑچکے ہیں، پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں پہلے ہی صورتحال خراب ہے، بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں صرف 49 وینٹی لیٹرز قابل استعمال ہیں، کے پی کے میں ان کی تعداد 150 کے قریب ہیں۔

سندھ میں 484 سرکاری وینٹی لیٹرز میں سے  353 ورکنگ حالت میں ہیں ، کراچی کے پرائیویٹ اسپتالوں میں تقریباً 500 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔ پنجاب میں وینٹی لیٹرز کی تعداد لگ بھگ 1300 ہے ، ان میں سے 250 لاہور کے سرکاری اسپتالوں میں ہیں ، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کڈنی اینڈ لیور میں 100 نئے وینٹی لیٹرز لائے گئے ہیں اور پرائیویٹ اسپتالوں میں ان کی تعداد صرف 51 ہے۔ 2017میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں کو 25 وینٹی لیٹرز دیئے گئے تھے ، ان میں سے بھی کئی خراب پڑے ہیں ، تحصیل کی سطح پر 30 اسپتالوں کو 150 وینٹی لیٹرز دیئے جانے تھے مگر یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا، اس وقت ہنزہ ، سکردو ، صوابی اور چلاس جیسے علاقوں کے کسی بھی اسپتال میں ایک بھی وینٹی لیٹر موجود نہیں ، ان بالائی علاقوں میں ویسے بھی اکسیجن کی کمی کا مسئلہ ہوتا ہے۔

اسپتالوں میں سہولتوں کا فقدان عام بات ہے لیکن ان حالات میں وینٹی لیٹرز کی کمی بڑا مسئلہ بن کر سامنے آسکتی ہے، پاکستان میں حکومتوں نے شہروں کو خوبصورت بنانے پر توجہ ضرور دی لیکن یہ کبھی جاننے کی کوشش نہ کی کہ سرکاری اسپتالوں میں جدید مشینری ہے یا نہیں ، اب وفاقی حکومت چین سے 786 وینٹی لیٹرز منگوا رہی ہے ، افسوس جو کام پہلے ہوجانا چاہئےتھا وہ اب کیا جارہا ہے ، وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ، اس مشکل گھڑی میں مخیر حضرات آگے نہ آئے اور قوم متحد نہ ہوئی تو المیہ جنم لے سکتا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو