دنیا میں 3500 سے زائد ہلاکتیں ، ایک لاکھ بیمار

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد ساڑھے 3 ہزار اور مریضوں کی ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئی، چین میں مزید 28، جنوبی کوریا میں 5 ، ایران میں 21 ، اٹلی میں 36 ، فرانس میں 7 ، امریکا میں 4 اور اسپین میں مزید 2 افراد کی موت ہوئی ہے۔ برطانیہ میں خوف اتنا بڑھ گیا ہے کہ لوگوں نے گیس ماسک لگانے شروع کردیئے۔

چین میں کورونا کیسز کی تعداد 80 ہزار سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ ملک میں 3 ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں البتہ ہلاکتوں کی تعداد کئی روز سے کم ہورہی ہے۔ جنوبی کوریا میں 7 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

ایران میں کورونا سے جاں بحق افراد میں 55 سالہ رکن پارلیمنٹ فاطمی رہبر اور وزیرخارجہ جواد ظریف کے مشیر حسین شیخ الاسلام بھی شامل ہیں، حسین شیخ نائب وزیرخارجہ بھی رہ چکے ہیں۔ ایران نے پابندیاں ہٹانے کے امریکی دعویٰ کو جھوٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ادویات کی امپورٹ میں پابندیوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔

مشہد کی پیام نور یونیورسٹی کے طلبا کورونا وائرس سے بچاو کے انتظامات میں حکومت کی مدد کیلئے سامنے آئے ہیں اور رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ایران میں کورونا متاثرین کی تعداد تقریبا 6 ہزار ہوچکی ہے۔

برطانیہ میں ہلاکتوں اور مریضوں کی تعداد بڑھنے کے بعد لوگ خوفزدہ ہیں اور شہریوں نے گیس ماسک کا استمعال شروع کردیا ہے۔

برطانیہ میں دوسو سے زائد مریض زیرعلاج ہیں جبکہ عمر رسیدہ اور بیمار افراد کو گھروں میں رہنے کا پابند کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اسپین میں مزید 2 افراد کی موت کے بعد تعداد 10 ہوگئی ہے ، فرانس میں مزید 7 اموات ہوئی ہیں اور ابتک 16 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اٹلی میں صورتحال انتہائی خراب ہے، مزید 36 اموات ہوئی ہیں اور ابتک 233 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، یہاں تقریبا 6 ہزار کیسز سامنے آچکے ہیں اور مریضوں میں ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ پاپائے روم نے اتوار کا عوامی اجتماع ملتوی کردیا ہے اور اب وہ ویڈیو خطاب کریں گے۔ جرمنی میں صورتحال نسبتا کنٹرول ہے اور یہاں 7سو سے زائد مریض زیرعلاج ہیں۔

امریکا میں مزید 4 اموات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 19 ہوچکی ہے اور تقریبا 4 سو مریض زیرعلاج ہیں۔

وائرس پر قابو پانے کی امریکی منصوبہ بندی کے باوجود مریضوں کی تعداد کنٹرول نہیں کی جاسکی ہے اور عوام کا اضطراب بڑھتا جارہا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو