سندھ: کہاں کہاں کرفیو لگائے جانے کا امکان

سندھ حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا جبکہ اب کھانے پینے کی دکانوں کیلئے بھی اوقات کار مقرر کردیئے گئے ہیں۔

کورونا سے دنیا بھر میں اموات دیکھنے کے باوجود کراچی والوں کو عقل نہ آسکی۔ مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرکے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالی جارہی ہیں۔

سندھ حکومت نے کورونا سے متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرلی ہے، کراچی میں صدر ٹاون سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے، گلشن اقبال ، ناظم آباد، گلبرگ ، جمشید ٹاون ، گڈاپ ، نارتھ کراچی اور اورنگی ٹاون میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ، ان علاقوں میں مزید پابندیاں لگانے پر غور کیا جارہا ہے۔ حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاون مزید سخت کیا ہے اور کرفیو کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے عوام کی مالی امداد اور راشن کی فراہمی کیلئے بھی کمیٹی بنادی ہے۔

سندھ حکومت نے کھانے پینے کی اشیا اور پرچون کی دکانوں کیلئے اوقات مقرر کردیئے ہیں ، اب یہ دکانیں صبح 8 سے رات 8 بجے تک کھل سکیں گی ، مقررہ وقت کے بعد دکان کھولنے پر کارروائی کی جائے گی۔ اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز پابندی سے مستثنی ہیں۔ بینکوں کو بھی صرف ضروری برانچز کھولنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر پکڑدھکڑ جاری ہے اور پولیس نے کراچی سمیت سندھ بھر میں لوگوں کو حراست میں لیا ہے ، یاد رہے کہ صوبے میں 22 مارچ کو 15 دن کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا، سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ اور آن لائن ٹیکسی سروس بند ہے۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہے، شہریوں کو انتہائی ضرورت پر گھر سے نکلنے کی صورت میں شناختی کارڈ دکھانا پڑتا ہے اور گھر کے صرف ایک شخص کو سودا لانے کی اجازت ہے۔ نماز جنازہ کیلئے بھی ایس ایچ او کو آگاہ کرنا لازمی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو