گریٹ ڈپریشن بدترین تھا یا کورونا بحران ؟

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ اس سال عالمی معیشت 3 فیصد تک سکڑ جائے گی۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ کورونا وبا نے دنیا کو ایسے مسائل سے دوچار کیا ہے جو گریٹ ڈپریشن کے بعد نہیں دیکھے گئے۔

آئی ایم ایف نے عالمی مندی کو 1930 کے گریٹ ڈپریشن کے بعد بدترین بحران قرار دیا ہے ، ادارے کا کہنا ہے کہ اگر وبا طویل عرصے تک رہی تو یہ حکومتوں اور بینکوں کا امتحان ہوگا، آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ گیتا گوپی ناتھ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحران سے 2 برس میں مجموعی عالمی پیداوار 9 کھرب ڈالر کم ہوسکتی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر اس سال وبا کا پھیلاو کم ہوگیا تو اگلے برس معاشی ترقی کی رفتار تیز ہو کر 5 اعشاریہ 8 فیصد ہوسکتی ہے۔ گیتا کہتی ہیں کہ ترقی کے امکانات بہت کم ہیں اور کساد بازاری کا خدشہ ہے۔

آئی ایم ایف کی چیف اکنامسٹ گیتا کا کہنا ہے کہ 1929 سے 1932 کے دوران جو تاریخ کا بدترین اقتصادی بحران تھا اس کا موازانہ آج کے کورونا بحران سے کیا جائے تو موجودہ صورتحال کہیں بہتر ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ جدید ممالک وبا سے پہلے والی ترقی کی بلند ترین رفتار 2022 سے پہلے حاصل نہیں کرسکتے۔ وبا کی دوسری لہر آئی تو عالمی جی ڈی پی میں مزید 8 فیصد پوائنٹس کم ہوجائیں گے، آئی ایم ایف نے اس کے باوجود زندگیوں کو اہم قرار دیتے ہوئے صحت کیلئے اقدامات اور سماجی دوری پر زور دیا ہے، خدشہ ہے کہ اس سال امریکی معیشت کی ترقی میں 5 اعشاریہ 9 فیصد کمی ہوگی، یہ 1946 کے بعد سب سے بڑی گراوٹ ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو