یورپی شہریوں کے امریکا جانے پر پابندی

کورونا وبا ابتک دنیا بھر میں 4 ہزار 7 سو سے زائد افراد کی جان لے چکی ہے۔ ایران میں مزید 75 ، چین میں 11 ، جنوبی کوریا میں 6 ، جاپان ، یونان اور عراق میں مزید 1 ، 1 شہری کی ہلاکت ہوئی ہے، اٹلی میں 827 ، ایران میں 429، امریکا 38، فرانس 48، اسپین 55 اور برطانیہ میں 8 اموات ہوچکی ہیں، بیلجئم اور جرمنی میں بھی 3 ، 3 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکا نے یورپ سے آنے والے غیر ملکیوں پر 30 روز کیلئے پابندی لگادی ہے۔ سفری پابندیوں کا اطلاق جمعہ سے ہوگا۔

چین کورونا وائرس کی بدترین صورتحال سے باہر آگیا لیکن ایران میں صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے، نئی اموات کے بعد تہران نے آئی ایم ایف سے 5 بلین ڈالر ہنگامی بنیادوں پر مانگ لئے ہیں ، وزیرخارجہ جواد ظریف نے بھی خط لکھنے کی تصدیق کردی ہے۔

امریکا نے کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے 26 یورپی ممالک سے آنے والے غیر ملکیوں پر 30 روز کیلئے پابندی لگادی۔ سفری پابندیوں کا اطلاق جمعہ سے ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا میں کورونا کا بیج یورپی سفر کرنے والوں نے بویا ، یورپی یونین نے کورونا سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات نہیں کئے تھے ، انھوں نے بعض افراد اور بزنسز  کی ٹیکس ادائیگیاں 3 ماہ کیلئے ملتوی کرنے کا بھی اعلان کیا۔

امریکا میں کورونا کیسز کی تعداد 13 سو سے زائد ہوگئی ہے ، یوٹا جیز کے کھلاڑی کا کورونا ٹیست مثبت آنے کے بعد نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کو میچز معطل کرنے پڑے ہیں۔

ریاست واشنگٹن کے گورنر نے 3 کاونٹیز میں بڑے اجتماعات پر پابندی لگادی ہے۔ ملک میں کئی اہم یونیورسٹیز بند کی جاچکی ہیں اور آن لائن کلاسز کا آغاز کیا گیا ہے۔

امریکی سینیٹ میں سب سے بزرگ سینیٹر ڈائن فائن اسٹائن نے دارالحکومت عارضی طور پر بند کرنے کی تجویز دیدی ہے۔

کورونا کے باعث امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور ایسے میں دارالحکومت بند کرنے کی تجاویز نے کاروباری افراد کی فکر بڑھادی ہے۔

اٹلی میں کورونا کے مریض پاکستانی شہری امتیاز احمد جاں بحق ہوگئے ہیں، یہاں سوا 8 سو سے زائد اموات ہوچکی ہیں اور اب شادی کی تقریبات اور تدفین سمیت عوامی اجتماعات پر پابندی لگادی گئی ہے۔

اسکول، جم ، عجائب گھر ، نائٹ کلب اور دیگر ایسے ہی مراکز بند کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ سفری پابندیاں بھی زیرغور ہیں۔

جرمنی میں اموات اورمریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھنے کے بعد چانسلر نے کورونا سے ملک کی 70 فیصد آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور حکومت بڑے اجتماعات پر پابندی چاہتی ہے۔

اسپین میں 50 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 2 ہزار 2 سو سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ، میڈریڈ سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں تعلیمی ادارے 15 دن کیلئے بند کرنے پڑے ہیں۔ ہنگری میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد عمارتوں کے اندر 100 اور عمارتوں کے باہر 5 سو سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہے، اٹلی ، چین ، جنوبی کوریا اور ایران سے شہریوں کی آمد روکی جاچکی ہے اور یونیورسٹیز بند ہیں۔

بیلجئم میں ہلاکتوں کی خبر کے بعد خوف لوگوں کے چہروں سے ظاہر ہے۔ یہاں 3 سو سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ برطانیہ میں 8 اموات کے بعد وزیراعظم پر اسکول کی بندش، فٹبال میچز منسوخ کرنے اور ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دینے کیلئے دباو بڑھتا جارہا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو