یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ؟ نرس کا غم

امریکا میں عارضی مردہ خانے کے ملازم نے اپنے دکھ بیان کردیا تو اب برطانوی اسپتال کی چیف نرس  نے دل کے پھپھولے پھوڑ دیئے ہیں۔

42 برس کی جوانیٹا نٹلا کی ذمے داریوں میں سب سے اہم یہ ہے کہ وہ کورونا سے جاں بلب مریضوں کا آخری لمحات میں ہاتھ تھام کر انہیں خدا کے حوالے کرتی ہے۔ اس لمحے وہ اپنی آنکھیں بند اور دل پر پتھر رکھ کر وینٹی لیٹر کا سوئچ آف کر دیتی ہے۔

نرس نے بتایا کہ اس نے جاں بلب ایک مریضہ کا کپکپاتا ہاتھ اس وقت تک تھامے رکھا جب تک خاتون نے آخری ہچکی نہ لے لی۔ فون پر موجود مریضہ کی آبدیدہ بیٹی ایک ایک آہٹ سن کر تڑپ رہی تھی۔ جس لمحے بیٹی سے کہا گیا کہ وہ اپنی ماں سے آخری بار جو کہنا ہے کہہ لے اور فون کان کے قریب کیا گیا تو چند ہی لمحے بعد وینٹی لیٹر کا سوئچ آف کردیا گیا۔ نرس نے بتایا کہ اس نے دل کی دھڑکنیں جانچیں جو تھم چکیں تھیں۔ لواحقین کی درخواست پر اس لمحے ایک درد بھری موسیقی کی آواز بڑھا دی گئی تھی۔ روہانسی بیٹی ماں کیلئے دعائیں کررہی تھی اور اس کی ہمت بڑھانے کی کوشش میں تھی کہ اسے بتایا گیا اب بہت دیر ہوچکی ہے۔

شمالی لندن کے علاقے ہیمسٹیڈ  کے رائل فری اسپتال میں کام کرانے والے یہ نرس کوویڈ 19 کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں تعینات ہے۔ نرس نے بتایا کہ اس نے خاتون کو اسپتال کے بستر پر ہی غسل دیا۔ سفید کفن میں لپیٹا ، اس کے چہرے پر صلیب کا نشان بنایا اور پھر میت باڈی بیگ میں منتقل کردی۔ نٹلا کو اپنی 50 برس کی ساتھی نرس کے ساتھ بھی یہی برتاو کرنا پڑا تھا جو کورونا کے مرض میں مبتلا ہوگئی تھی۔

بے تحاشا مریضوں کو آئی سی یو میں دیکھنے والی خاتون کو خوف ہے کہ اب وہ بھی کورونا وائرس کا شکار ہو جائے گی۔ وہ ہر اس مریض کی موت کا ذمہ دار خود کو سمجھتی ہے جس کی زندگی کے آثار نظر نہ آنے پر ڈاکٹر وینٹی لیٹر بند کرنے کی ہدایت کردیتے ہیں۔ مریضوں کی موت کے مناظر اس کی نظروں کے سامنے گھومتے ہیں اور وہ رات بھر کروٹیں بدل کر گزار دیتی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو