ٹرانسپورٹ بند کرنا غلط ، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے ٹرانسپورٹ بند کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ آگے چلا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ٹرانسپورٹ بند نہیں ہونی چاہئے۔

انھوں نے یہ بات اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماوں کی ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، کانفرنس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو  اور شیری رحمان ، نون لیگ کے صدر شہبازشریف ، مشاہد اللہ خان اور خواجہ آصف شریک ہوئے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی طلبا کو چین میں رکھنے کا مشکل فیصلہ کیا، یہی وجہ ہے کہ چین سے اب تک کورونا وائرس کا کوئی کیس نہیں آیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کورونا کا پھیلاو روکنے کی صلاحیت نہیں تھی ، تہران نے پاکستانی زائرین تفتان سرحد پر بھیج دیئے جہاں کوئی سہولت نہیں تھی، دباؤ بڑھنے پر زائرین کو پاکستان منتقل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز تک کورونا کے صرف 153 مقامی مریض تھے، کورونا کیسز سامنے آتے ہی حکومت نے عوامی اجتماعات پر پابندی لگادی تھی ، ٹرانسپورٹ بند کرنے والا لاک ڈاؤن ابھی نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس سے کھانے پینے کی اشیا کی سپلائی متاثر ہوگی۔ وفاق نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی میں اپنا موقف رکھے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے انڈسٹری بند ہوگئی ، اگر کرفیو لگانا پڑے تو اس کی تیاری ہونی چاہئے، لوگوں کو گھروں پر کھانا پہنچانا ہوگا ، عمران خان نے بتایا کہ وہ جلد رضاکاروں کے پروگرام کا اعلان کریں گے اور کرفیو کی صورت میں رضا کاروں کی مدد لی جائے گی۔ عمران خان اپنا خطاب کرکے چلے گئے تو اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور بلاؤل بھٹو نے واک آوٹ کردیا۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ سیاست کرنے نہیں آئے تھے ، ملک وبا سے متاثر ہے اور وزیراعظم کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے ، ایسے میں کانفرنس کا کوئی فائدہ نہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو