کورونا پر قابو کیلئے چین کے 12 اقدامات

چین کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا پہلا ملک تھا ، وبا پر قابو پانے میں بھی سب سے پہلے کامیاب ہوا ، چین نے ایسے 12 اقدامات کئے تھے جن سے وائرس کا پھیلاو رکا اور دنیا بھر میں چین کے طبی ماہرین کا ڈنکا بج گیا۔

چین نے وائرس پر قابو پانے کیلئے ایسے اقدامات کئے جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے، تقریبا 6 کروڑ افراد کو 2 ماہ گھروں تک محدود کیا گیا تاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔

حکومت نے کورونا کا ٹیسٹ نہ صرف مفت بلکہ لازمی قرار دیا، انشورنس کمپنیز نے رقم دینے سے انکار کیا تو حکومت نے آگے بڑھ کر وہ رقم بھی ادا کردی۔

مریضوں کی تعداد چونکہ لاکھوں میں تھی اسی لئے دن رات کام کیا گیا اور نئے اسپتال قائم کئے گئے۔ ان میں سے ایک اسپتال صرف 6 دن اور دوسرا 15 دن میں تعمیر کرلیا گیا۔

حیران کن طور پر انتہائی تیزی کے ساتھ عام اسپتالوں کو کورونا اسپتال میں تبدیل کیا گیا۔ اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ اسپتالوں سے وائرس باہر نہ نکل سکے۔ ڈاکٹروں نے دن رات کام کیا اور مریضوں کو لمحہ لمحہ چیک کیا جاتا رہا۔

چین نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کورونا کے شکار ہر شخص کا پتا چلایا۔ 80 ہزار مریضوں میں سے زیادہ تر وہ تھے جنہیں خود حکومت نے تلاش کیا نہ کہ وہ اسپتال جاکر ٹیسٹ پازیٹو آنے پر کورونا مریض قرار دیئے گئے ہوں۔

ایسے مریضوں کا علاج موخر کردیا گیا جنھیں انتظار کرایا جاسکتا تھا اور عام مریضوں کو آن لائن ڈاکٹروں کی سہولت فراہم کی گئی۔

وہ دفاتر جو کھلے تھے وہاں بھی جسم کا درجہ حرارت مانیٹر کرنے کے بعد لوگوں کو جانے کی اجازت دی گئی۔

اگرچہ سخت لاک ڈاؤن میں مسافروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن ووہان شہر میں ٹرینیں بند نہیں کی گئیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ممکن ہو۔

ووہان شہر امریکی ریاست نیویارک کے دارالحکومت نیویارک سٹی کے برابر ہے ، نیویارک کے مقابلے میں ووہان میں نسبتا آسانی کے ساتھ لوگوں کو کھانے پینے کا سامان گھروں پر بلاتعطل فراہم کیا جاتا رہا، ڈیڑھ کروڑ شہری آن لائن فوڈ آڈر کرتے رہے اور بروقت ترسیل ہوتی رہی۔

ایک دوسرے کی مدد کرنے کیلئے لوگوں نے اپنی ملازمتوں کی نوعیت تبدیل کرلی، ہوبئی صوبے کے لوگوں سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے دیگر صوبوں کے 40 ہزار افراد میڈیکل ورکر بن گئے۔

چینی حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی کہ کسی سے ہاتھ نہ ملائیں۔ سینی ٹائزر استعمال کریں ، ہاتھ  وقفے وقفے سے دھوئیں۔ ایسا ماسک پہنیں جو منہ اور ناک کو مکمل ڈھکے۔ ماسک کو بار بار ایڈجسٹ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ماسک استعمال کے بعد مناسب انداز سے ٹھکانے لگائیں۔ چہرے کو بھی باربار ہاتھ نہ لگایا جائے۔ گھر واپس آئیں تو اپنے موبائل ، چشموں اور جوتوں کو بھی ڈس انفیکٹ کریں۔ بہتر یہ ہوگا کہ باہر جانے کیلئے صرف ایک لباس کا انتخاب کیا جائے جو دوسرے کپڑوں سے الگ رہے۔ حکومت نے دفاتر کے بجائے گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی اور اسکولوں میں آن لائن کلاسوں پر زور دیا گیا۔

ٹرینڈنگ

مینو