اسپین میں پاکستانیوں کا قابل تقلید کردار

اسپین میں کورونا سے اموات کی تعداد چین سے دوگنا ہوگئی ، مرض اتنا زیادہ پھیل گیا ہے کہ چین اور اسپین میں بیمار افراد کی تعداد بھی تقریبا برابر ہے۔ ایسے میں بارسیلونا میں پاکستانی قونصل خانہ کمیونٹی کی خدمت کیلئے مثال بنا ہوا ہے۔ کمیونٹی کے افراد بھی لوگوں کی مدد میں پیش پیش ہیں۔

اسپین میں ریکارڈ اموات ہوئی ہیں۔ اسپتالوں کے آئی سی یوز میں صرف ساڑھے 4 ہزار مریض داخل کئے جاسکتے ہیں لیکن بیماروں کی تعداد اس قدر ہے کہ بستر کم پڑگئے ہیں۔

پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں نے مشکل کی گھڑی میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کیلئے مفت سروس شروع کی ہے۔ صاحب حیثیت نہ ہونے کے باوجود پاکستانی ڈرائیورز اسپتالوں کے باہر قطار بنا کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور عملے کو ان کے گھر پہنچا کر مقامی افراد کے دل جیت رہے ہیں۔

اس ملک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کیش اینڈ کیری سے وابستہ ہے۔ میڈرڈ اور بارسیلونا سمیت مختلف شہروں میں بزنس سے جڑے کئی افراد ضرورت مندوں میں امدادی سامان تقسیم کر رہے ہیں۔

پاکستانی سفارتخانہ اور بارسیلونا میں قونصل خانہ بھی کمیونٹی کی مدد میں پیش پیش ہے۔

قونصل جنرل عمران علی نے بتایا کہ پاکستانیوں کی ہرممکن امداد کی جارہی ہے۔ ضرورت مندوں کیلئے قونصل خانے کے دروازے اتوار کو بھی کھلے رہتے ہیں۔

اسپین میں اس آفت سے عام شہری ہی نہیں شاہی خاندان کے افراد بھی متاثر ہیں۔ 2 روز پہلے شہزادی ماریہ کا انتقال ہوگیا تھا۔

ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچز کی اہلیہ بگونا گومیز بھی کورونا سے بیمار ہوئی ہیں ، وزیراعظم نے اس صورتحال میں یورپ بھر کیلئے مارشل پلان کا مطالبہ کیا ہے۔ مارشل پلان جنگ عظیم دوم سے تباہ یورپ کی بحالی کیلئے امریکا نے امداد کے طور پر پیش کیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو