کورونا: ایک کروڑ امریکیوں کے چولھے ٹھنڈے

کورونا وائرس نے ایک کروڑ امریکا شہریوں کو بے روزگار کردیا، ایک ہفتے میں 66 لاکھ نئے شہریوں نے ان ایمپلائمنٹ کلیم دائر کردیئے۔

لیبر ڈپارٹمنٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پچھلے ہفتے 33 لاکھ افراد نے ان ایمپلائمنٹ بینفٹس کیلئے کلیم دائر کئے تھے اور یہ تعداد اب ایک کروڑ ہوگئی ہے ، کورونا وائرس کے باعث 80 فیصد شہریوں کو لاک ڈاؤن میں مسائل کا سامنا ہے۔

کورونا وبا پھیلنے سے پہلے بے روزگاری 60 سال کی کم ترین سطح پر تھی اور معیشت ماضی سے زیادہ ترقی کر رہی تھی۔ اب اقتصادی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس ماہ کے آخر تک 2 کروڑ افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں۔

ریسٹورنٹس ، ہوٹلز ، جمز ، مووی تھیٹر اور دیگر دفاتر کی بندش اور لوگوں کو گھروں پر رہنے کی ہدایت نے کاروبار کا بھٹہ بٹھا دیا ہے ، متعدد ادارے ملازمین کی اجرت کم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

اسٹاک مارکیٹ میں بھی مسلسل مندی ہے اور سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب چکے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کہتے ہیں وبا ختم ہونے کے بعد معیشت کی بحالی میں طویل عرصہ لگ جائے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو