بورس اسپتال میں، قائم مقام کو کھانسی

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کو ایک روز بعد بھی آئی سی یو سے باہر نہ لایا جاسکا۔ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں سانسوں کی رفتار نارمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی دوران ایک اور وزیر کو قرنطینہ کرنا پڑگیا جبکہ قائم مقام وزیراعظم ڈومنیک راب کھانستے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

55 برس کے بورس جانسن کو پیر کی شب لندن کے سینٹ تھامس اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا ، انھیں آکسیجن لگائی گئی تھی البتہ وینٹی لیٹر پر منتقل کی نوبت نہیں آئی تھی۔ اب واضح کیا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کو نمونیا  نہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

قائم مقام وزیراعظم ڈومنیک راب حکومتی امور انجام دے رہے ہیں لیکن وہ بھی کھانستے ہوئے دیکھے گئے۔

اہل خانہ میں کورونا علامات ظاہر ہونے پر کابینہ کے ایک اور رکن مائیکل گوو کو بھی 14 روز کیلئے قرنطینہ میں جانا پڑگیا ہے۔ مائیکل گوو نے اس سے پہلے وزیراعظم کی حالت کو تشویش ناک قرار دیا تھا تاہم ان خدشات کو مسترد کردیا تھا کہ کورونا کے سبب حکومت مفلوج ہوسکتی ہے۔ گوو کا کہنا تھا کہ فیصلہ سازی میں کابینہ کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورس جانسن کے علاج کیلئے تجرباتی دوائی بھیجنے کی پیش کش کی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو