بجٹ : نیا ٹیکس نہیں لگا، 45 اداروں کی نجکاری کا پلان

قرۃ العین

وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے 7 ہزار 295 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا، آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم موجودہ سال کے بجٹ سے 11 فیصد کم ہے ، ترقیاتی اخراجات پر نظرثانی کے بعد انھیں 9 سو 50 ارب روپے سے کم کرکے 759 ارب روپے کردیا گیا ، رواں مالی سال کیلئے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 7 ہزار 376 ارب اور آئندہ مالی سال کیلئے جاری اخراجات کا تخمینہ 6 ہزار 345 ارب روپے ہے، آئندہ مالی سال کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 886 ارب روپے لگایا گیا ہے، اس مالی سال میں 1160 ارب روپے کے مقابلے میں 1600 ارب روپے ریونیو حاصل ہوگا، ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ٹیم بنائی جس نے 45 اداروں کی نجکاری اور 14 کو صوبوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ دیا ہے، صنعتیں اور کاروبار بند ہونے سے جی ڈی پی میں 2100 ارب روپے کمی ہوئی۔  وفاق کے زیراہتمام کراچی میں اسپتالوں کیلئے 13 ارب روپے رکھے گئے۔ بلوچستان کو 10 ارب روپے کی گرانٹ دی جائے گی، اعلی تعلیم کیلئے 64 ارب روپے اور سبسڈیز کیلئے 180 ارب روپے رکھے گئے، پاکستان ریلوے کیلئے 40 ارب روپے رکھے گئے ہیں، کرنٹ اکاونٹ خسارہ 4 اعشاریہ 4 پر لایا جائے گا، منہگائی کی شرح 6 اعشاریہ 5 صفر پر لائی جائے گی، ٹڈی دل کو ختم کرنے اور زرعی شعبے کیلئے 10 ارب مختص کئے گئے ، فنکاروں کی مالی معاونت 25 کروڑ سے بڑھا کر ایک ارب روپے کردی گئی۔ حماد  اظہر نے ابھی گفتگو شروع ہی کی تھی کہ اپوزیشن ارکان نے بولنا شروع کردیا اور اس بات پر احتجاج کیا کہ انہیں بجٹ کی کاپیاں نہیں دی گئیں۔ رہنما جھوٹ جھوٹ کے نعرے لگاتے رہے، وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے مشکل سفر کا آغاز کیا۔ مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر مستحکم نہیں رکھی گئی، کورونا کے بعد اقتصادی سرگرمیاں مانند پڑگئی ہیں، تقریبا تمام صنعتیں اور کاروبار متاثر ہوئے ، کاروباری اور انفرادی قرضوں کیلئے 800 ارب روپے رکھے گئے ، کورونا فنڈ کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے، طبی شعبے کیلئے 75 ارب روپے کی منظوری دی گئی ، کورونا اور کینسر کی تشخیصی کٹ پر عائد ٹیکس ختم کیا جارہا ہے، سستی کھاد اور قرضوں کی معافی کیلئے 50 ارب روپے مختص اور صحت کیلئے 75 ارب روپے رکھے گئے، 100 ارب روپے بجلی اور گیس کے بلوں کی مد میں رکھے گئے ہیں، کاروباری طبقے کو 214 ارب کے ریفنڈ جاری کئے، عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، درآمدی سگریٹ پر ٹیکس 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کیا جارہا ہے، مشروبات کی درآمدات پر ڈیوٹی 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے ، ڈبل کیبن والی گاڑی پر ٹیکس بڑھایا جارہا ہے۔ سیمنٹ کی پیداوار پر ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے، مقامی طور پر بنائے جانے والے موبائل فون پر ٹیکس کم کیا گیا۔

ٹرینڈنگ

مینو