نیب نے قانون کی دھجیاں اڑادیں، سپریم کورٹ

محمد عثمان

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ نون کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ نیب نے قانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔

خواجہ برادران کی ضمانت سے متعلق 87 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسٹس مقبول باقر نے تحریر کیا ، اس میں کہا گیا کہ نیب سیاسی لائن کے دوسری جانب کھڑے ایسے افراد کے خلاف قدم نہیں اٹھاتا جن پر مالی بدعنوانیوں کے الزامات ہیں جبکہ کچھ افراد کو گرفتار کرکے مہینوں اور برسوں تک بغیر وجہ اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ احتساب کیلئے بنائے گئے مختلف قوانین کا استعمال سیاسی وفاداریاں بدلنے کیلئے ہوتا رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے خواجہ برادران کیس سے متعلق کہا کہ ماتحت عدلیہ میں زیر التواء دیوانی مقدمے کو  نیب ریفرنس میں شامل کیا گیا۔ اس معاملے میں اختیارات کی تقسیم کا تصور روندا گیا۔ یہ مقدمہ بنیادی حقوق کی پامالی ، آزادی سے محرومی اور انسانی عظمت کی توہین کی کلاسک مثال ہے۔ یہ مقدمہ قانون کی خلاف ورزی کا مظہر ہے۔

عدالت نے کہا کہ بظاہر نہیں لگتا خواجہ بردران نے ایسا جرم کیا جس کا نیب ٹرائل ہو، نیب خواجہ بردران کا پیراگون کمپنی کے ساتھ تعلق نہیں جوڑ سکا۔ نیب کا خواجہ بردران کو حراست میں رکھنا قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

نیب نے 11 دسمبر 2018 کو خواجہ برادران کو پیراگون ہاؤسنگ کیس میں مبینہ کرپشن الزام پر گرفتار کیا تھا،  سپریم کورٹ نے اس سال 17 مارچ کو دونوں بھائیوں کی ضمانت 30 ، 30 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔

ٹرینڈنگ

مینو