31 دسمبر تک شہریوں کا آزادانہ آنا جانا ممکن

برطانیہ 47 برس بعد یورپی یونین سے آخر کار علیحدہ ہوگیا البتہ 31 دسمبر تک عبوری دور میں یورپی قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔ یورپی یونین اور برطانیہ کے شہری اس عرصے میں آزادنہ نقل وحرکت بھی کرسکیں گے۔

1973 میں یورپی یونین کا رکن بننے والا برطانیہ ہفتے کی صبح 4 بجے تنظیم سے باضابطہ طور پر علیحدہ ہوجائے گا۔

بورس جانسن کا کہنا ہے کہ بریگزٹ نکتہ انجام نہیں ، برطانیہ کی ترقی کا نکتہ آغاز ثابت ہوگا۔ وہ ملک کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے جامع پروگرام کا بھی اعلان کریں گے۔

برطانیہ میں ایسے لوگوں کی بھی بڑی تعداد ہے جو  یورپی یونین کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ یونین سے اتحاد برقرار رکھنے کی حمایت میں آخری روز تک مظاہرے کئے گئے۔ شرکا کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی معاشی ترقی اور استحکام یونین کےساتھ رہنے میں ہے۔

انگلینڈ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ پر مشتمل گریٹ بریٹن دنیا کی اہم طاقتوں میں سے ایک ہے تاہم اسکاٹ لینڈ کے عوام بریگزٹ کے یکسر مخالف ہیں۔

اسکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ نکولا اسٹرجن چند روز پہلے ہی اسکاٹش اسمبلی سے قرارداد منظور کراچکی ہیں۔ قرارداد کے تحت اسکاٹ لینڈ میں اسی برس برطانیہ سے آزادی کیلئے ریفرنڈم کرایا جائےگا۔ اس سے پہلے ریفرنڈم میں عوام نے معمولی برتری سے برطانیہ کےساتھ رہنےکے حق میں ووٹ دیا تھا تاہم اس بار خدشہ ہے کہ اسکاٹ لینڈ آزادی کے حق میں ووٹ دے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو