آئی جی کی گرفتاری: فوج تحقیقات کرے، بلاول بھٹو

محسن رضا

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زردای نے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کے گھر کا گھیراؤ کرنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے محکمانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے واقعے پر شرمندہ اور منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ صبح سویرے آئی جی سندھ مشتاق مہر کو ہراساں کرکے گرفتار کرنا ان کی تذلیل ہے ، وزیراعلیٰ نے تحقیقات کا اعلان کیا، پولیس افسران بے عزتی کے باعث استعفے دے رہے ہیں اور چھٹیوں پر جارہے ہیں۔ غیر سیاسی فیصلوں کی وجہ سے سندھ پولیس کا مورال گرا ہے۔

انھوں نے سوال کیا کہ وہ کون 2 افراد تھے جو آئی جی کو نامعلوم مقام پر لے کر گئے ؟ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید واقعے کی تحقیقات کریں۔ سندھ حکومت اپنی تحقیقات کرے گی لیکن ادارے بھی تحقیقات کریں۔

بلاول بھٹو نے واقعے کو ناقابل برداشت قرار دیا اور کہا کہ ان کا کام صوبے کا امن قائم رکھنا ہے۔ دیگر صوبوں میں پولیس فورس پی ٹی آئی کی پولیٹیکل فورس بنی ہوئی ہے ، سندھ حکومت آئی جی بدلنا چاہے تو مشکل ہوتی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کراچی جلسے میں عوام کی شرکت کو عمران خان اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ریفرنڈم قرار دے دیا ، گورنر راج سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ لگا کر دکھاو، یہ غیر قانونی ہوگا، ازخود گورنر راج نہیں لگایا جاسکتا۔

ٹرینڈنگ

مینو