غزہ : اسرائیل کا فضائی حملہ ، بچوں سمیت 20 فلسطینی شہید

اسرائیلی فورسز کے مسجد الاقصی میں نمازیوں پر تشدد اور جواب میں حماس کے راکٹ حملوں کے بعد صہیونی فورسز نے غزہ میں راکٹ برسادیئے، حملے نو بچوں اور حماس کے کمانڈر سمیت بیس فلسطینی شہید ہوگئے۔

فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں بیت حانون کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ کئی گولے چلتی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر گرے ، اس دوران سڑک پر لاشوں کا ڈھیر لگ گئے۔ شہدا میں نو نچے اور حماس کے کمانڈر محمد عبداللہ فیاض بھی شامل ہیں، سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں جن میں زخمیوں کو تڑپتے اور دم توڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی فورسز نے مسجد الاقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں نمازیوں پر حملہ کیا تھا اور جواب میں حماس نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔

حماس کے راکٹ حملے شروع ہوتے ہی اسرائیل میں سائرن بجائے جانے لگے اور پارلیمنٹ کو خالی کرالیا گیا، حماس نے اسرائیل کو وارننگ دی ہے کہ وہ فوری طور پر مسجد الاقصیٰ اور دیگر اہم مذہمی مقامات سے اسرائیلی فوج کو نکال لے۔ مسجد الاقصی میں نمازیوں پر تشدد کے بعد اسرائیل میں پولیس اسٹیشنز پر بھی حملے شروع ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران اسرائیلی فوج نے مسجد الاقصی میں گھس کر تین سو سے زائد نمازیوں کو زخمی کردیا تھا۔

اسرائیلی فوج کے اس ظلم کے بعد فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان پر تشدد تصادم میں تیزی آگئی جبکہ اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس میں بھی باقاعدہ جنگ شرو ع ہوچکی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس نے ریڈ لائن عبور کی ، حالیہ تصادم کچھ عرصے جاری رہے گا جس میں اسرائیل پوری طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو