غزہ : خدا سے مدد طلب،بچوں کی حالت؟ ویڈیوز

اسرائیلی بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 146 ہوگئی ، ان میں 50 بچے بھی شامل ہیں، ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور مظلوم افراد مسلم حکمرانوں سے مایوس ہوکر خدا سے مدد کے طلب گار ہیں۔ اسرائیلی فورسز کی بمباری اور عالمی رہنماوں کی بیان بازی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

اسرائیل نے ریاستی دہشت گردی کی انتہا کردی، غزہ میں مہاجر کیمپ پر بمباری سے آٹھ بچوں اور دو خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد شہید ہوگئے،  پیر سے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسرائیلی وزیراعظم نے حملے مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی بمباری سے ان گنت عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں ، آبادیاں قبرستان میں تبدیل ہورہی ہیں اور لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں۔

غزہ میں دن رات بمباری جاری ہے اور علاقے کا سرحدی محاصرہ بھی کیا جاچکا ہے ، لاشیں اور زخمی اس حالت میں اسپتال لائے جارہے ہیں کہ طبی عملے کیلئے یہ مناظر دیکھنا نامکن ہوچکا ہے ، ایسی ہی حالت اس ڈاکٹر کی بھی ہے جو ایک اور زندگی بچانے میں ناکام ہوگیا۔

اسرائیلی بمباری ہوتی ہے تو بچے سہم جاتے ہیں اور والدین کی تسلیاں بھی بے کار ثابت ہوتی ہیں، ایسے ہی کچھ مناظر ان ویڈیو میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

غزہ میں جارحیت کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر ہی پڑا ہے جو دن رات لاشیں دیکھ کر خوفزدہ ہیں۔

فلسطین میں درجنوں بچے شہید اور زخمی ہوچکے ہیں، کئی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں اور جو زندہ ہیں ان کیلئے پیاروں کے بچھڑنے کا صدمہ اٹھانا مشکل ہے۔

اسرائیلی حملوں میں صرف رہائشی عمارتیں ہی تباہ نہیں کی گئی کئی مساجد بھی شہید ہوئی ہیں۔

اگرچہ مسجد شہید کردی گئی لیکن صہیونی فورسز اذان اور نماز روکنے میں ناکام ہوگئیں۔

اسرائیل نے حماس کی ایک سرنگ تباہ کرنے کا دعوی کیاہے ، اس کارروائی کیلئے اسرائیل کے ایک سو ساٹھ طیاروں نے چالیس منٹ میں اسی ٹن دھماکا خیز مواد استعمال کیا، صرف اسی کارروائی سے اسرائیلی بربریت کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو