اسرائیل نواز امریکی سینیٹر بھی مظالم پر بول پڑے

فلسطینیوں کی اسرائیل کے ہاتھوں مبینہ نسل کشی پر اسرائیل نواز امریکی سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے چئیرمین کا صبر بھی جواب دے گیا، سینیٹر باب میننڈیز نے نہتے اور بے گناہ فلسطینی بچوں،عورتوں اور مردوں پر حملوں کیخلاف آواز بلند کرتے ہوئے اسرائیل کو دو ٹوک انداز میں خبردارکردیا۔

سینیٹر باب میننڈیز نے غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کی بڑھتی اموات اور میڈیا ہاوسز پر کئے گئے حملوں پر شدید تشویش کااظہار کیا اور اسرائیل کووارننگ دی ہے کہ دفاع کا حق اپنی جگہ مگر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان تعلقات اسی وقت پنپ سکتے ہیں جب انکی بنیاد جمہوریت، آزادی ، اجتماعیت اور انسانی حقوق کے احترام جیسی مشترکا اقدار ہوں۔

ڈیموکریٹ سینیٹر باب میننڈیز نے اسرائیل پر واضح کردیا ہے کہ وہ غزہ میں بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے سے ہرممکن گریز کرے۔

امریکی سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے چئیرمین نے بے گناہ شہریوں کی شہادتوں اور میڈیا ہاوسز کو نشانہ بنائے جانے کامکمل جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔اسرائیل نے ہفتے کو غزہ میں بارہ منزلہ عمارت گرادی تھی ، اس میں امریکا کی ایسوسی ایٹڈ پریس اور الجزیرہ جیسے بڑے میڈیا اداروں کے دفاتر بھی تھے۔

امریکن پاکستانی پبلک افئیرز کمیٹی کے چئیرمین ڈاکٹر اعجاز احمد سینیٹر باب مینیڈیز کو کئی بار مدعو کرچکے ہیں۔ اے پی پیک کی جانب سے بیان جاری کیاگیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ یہ کمیٹی  اسرائیل نواز سینیٹر میننڈیز کی جانب سے تل ابیب حکومت کے خلاف سخت موقف اپنانے کا خیر مقدم کرتی ہے۔

اے پی پیک کے مطابق یہ ان کے دوست سینیٹر باب میننڈیز ہی کی وجہ سے ممکن ہوا کہ امریکا کے صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو ٹیلے فون کیا اور زور دیا ہے کہ نہتے فلسطینیوں پرحملوں اورمیڈیا ہاوسز کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔

غزہ پرصرف اتوار کو کئے گئے حملوں میں  16 بچوں اور 10 خواتین سمیت 42 فلسطینیی شہید ہوئے۔

8روز سے جاری وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 192 ہوچکی ہے ، ان میں 58 بچے اور 34 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زائد ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو