5 ہزار زائرین مارچ تک ایران میں رہیں گے

ایران میں کورونا وائرس سے اموات کے بعد پاکستان نے شہریوں کے ایران جانے پر پابندی لگادی ہے جبکہ بارڈر پر موجود زائرین کو اسکریننگ کے بعد آنے کی اجازت دی جائے گی۔

حکومت نے حفاظتی اقدامات کے تحت تفتاں سرحد پر مسافروں کو ایران جانے سے روک دیا ہے، بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کہتے ہیں ایران میں موجود زائرین مارچ تک وہیں قیام کریں ، ذرائع کے مطابق اس وقت 5 ہزار پاکستانی زائرین ایران میں موجود ہیں۔

پاک ایرانی سرحدی علاقوں میں 10 ہزار ماسک بھیج دیئے گئے ہیں ، ایمرجنسی نافذ ہے اور تمام اسپتالوں میں ہائی الرٹ ہے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تفتان بارڈر پر 100 بستروں کا موبائل اسپتال بنایا گیا ہے ،ڈاکٹر بھی اسلام آباد سے پہنچ چکے ہیں اور ایران سے آنے والے افراد کی اسکریننگ کا عمل جاری ہے۔

ہوائی جہازوں کے ذریعے آنے والے افراد کی ایئرپورٹ پر اسکریننگ کی جارہی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال صوبے میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو