شہبازشریف جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے انھیں نیب کے حوالے کردیا۔

مسلم لیگ نون کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، نیب نے جج جواد الحسن سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی ، وکیل امجد پرویز کے بدلے شہباز شریف نے خود دلائل دیئے اور کہا کہ والد کے اثاثے ہماری جلا وطنی میں تقسیم ہوئے، پاکستان آیا تو اپنے اثاثے بچوں میں تقسیم کردیئے ، 2017 میں حکومت پنجاب نے چیف سیکریٹری کے ذریعے سمری بھیجی، کہا گیا کہ چینی پر 15 روپے سبسڈی دیں، شہبازشریف نے بتایا کہ انھوں نے 15 روپے سبسڈی دینے سے انکار کیا اور معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجنے کا کہا، دسمبر میں وفاقی حکومت نے فی کلو 10 روپے سبسڈی دینے کا اعلان کیا، مجھے کہا گیا آپ بھی دیں لیکن میں نے انکار کردیا، اس اقدام سے میرے بیٹے کو 90 کروڑ کا نقصان اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔

اپوزیشن لیڈر نے اپنے دور کے ترقیاتی کاموں کا کتابچہ عدالت میں پیش کیا اور اسے ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی۔ انھوں نے کہا کہ انصاف کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، نیب نیازی گٹھ جوڑ کی وجہ سے انصاف نہیں ہو رہا، میں نے 3 ادوار میں صوبے کی خدمت کی اور ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی۔

اپوزیشن لیڈر کے دلائل پر جج نے پوچھا کہ یہ تفصیلات آپ نے نیب کو بتائیں؟ شہباز شریف نے کہا کہ یہ بولتے نہیں، نیب کے تفتشی افسر گھنے بنے ہوئے ہیں۔  تفتیشی افسر نے بتایا کہ کل شہباز شریف سے پوچھا گیا لیکن انہوں نے واضح کیا کہ وہ کچھ نہیں بتائیں گے، ان سے کل گراؤنڈ آف اریسٹ پر دستخط کروائے گئے۔ شہباز شریف نے جج سے کہا کہ میں کوئی قانونی دلائل نہیں دوں گا، عدالت نے جتنا ریمانڈ دینا ہے دے۔ اس کے بعد عدالت نے شہباز شریف کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا اور انہیں 13 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

ٹرینڈنگ

مینو