پارک لین ریفرنس، آصف زرداری پر فرد جرم عائد

احتساب عدالت نے آصف زرداری پر پارک لین ریفرنس میں فرد جرم عائد کردی ،  سابق صدر نے صحت جرم سے انکار کیا جس کے بعد آئندہ سماعت پر گواہ طلب کرلئے گئے ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد اعظم نے کیس کی سماعت کی، سابق صدر ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے، آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ان پر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی، ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک سپریم کورٹ میں مصروف ہیں۔

جج نے سابق صدر سے کہا کہ الزامات سننے کیلئے وکیل کی ضرورت نہیں۔ آصف زرداری کو چارج شیٹ پڑھ کر سنائی گئی ، ان پر جعلی فرنٹ کمپنی بنا کر بینک کا قرض خوردبرد کرنے ، بطور صدر دباؤ ڈال کر ڈیڑھ ارب روپے قرض لینے اور دھوکہ دہی سے حاصل رقم جعلی بینک اکاونٹس میں بھجوانے کا الزام ہے، آصف زرداری نے تمام الزامات مسترد کردیئے۔

کیس میں شریک ملزمان انور مجید، شیر علی، فاروق عبد اللہ اور محمد سلیم فیصل بھی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، اڈیالہ جیل میں موجود ملزم محمد حنیف سمیت تمام ملزمان نے الزامات مسترد کردیئے ، عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہان کو طلب کر لیا ہے۔

پارک لین ریفرنس جعلی اکاؤنٹس کیسز میں سے ایک ہے اس کمپنی میں آصف زرداری سمیت 25 شیئر ہولڈرز تھے۔ کیس میں نیشنل بینک کے سابق صدور سمیت مختلف گواہان بیانات ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو