پائلٹس کے لائسنس اصلی، ایوی ایشن اتھارٹی

اعجاز امتیاز

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کے کسی پائلٹ کے پاس جعلی لائسنس نہیں اور کسی کی میعاد پوری نہیں ہوئی۔

سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل حسن ناصر جامی نے 13 جولائی کو اومان سول ایوی ایشن کے سربراہ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ تمام کمرشل اور ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹس کے لائسنس درست ہیں، یہ لائسنس پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جاری کئے اور ان کی معیاد ابھی ختم نہیں ہوئی، اس معاملے کو غلط سمجھا گیا اور غلط انداز میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر اٹھایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی پائلٹس کو جاری کئے گئے تمام لائسنسز کا فارنزک کرلیا گیا، متحدہ عرب امارات ، ویتنام ایئرلائنز ، بحرین ایئر ، سول ایوی ایشین ملائیشیا ، ہانگ کانگ سول ایوی ایشن ڈپارٹمنٹ اور ترکش ایئرلائنز کی جانب سے 104 پائلٹس کے بارے میں معلوم کیا گیا ، سی ای اے نے 96 پاکستانی پائلٹس کو کلیئر کردیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایوی ایشن اصلاحات کے دوران لائسنسز کی تصدیق کا عمل کیا گیا، پروسیجر میں بعض خامیاں دور کی جارہی ہیں، چند کمپیوٹرائزڈ اعتراضات کے بعد مشکوک پائلٹس کو فلائٹ سے روک دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سی اے اے نے 24 پائلٹس کے لائسنس معطل کئے تھے جبکہ 51 کے لائسنس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کئی روز پہلے قومی اسمبلی میں بتایا تھا کہ 262 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں۔

اس صورتحال میں یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کو جاری کیا گیا فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 30 جون کو 6 ماہ کیلئے معطل کردیا تھا، برطانیہ نے پروازوں کی آمد پر پابندی لگائی جبکہ ویت نام نے تمام پاکستانی پائلٹس گراونڈ کردیئے تھے۔  ملائیشیا نے پاکستانی پائلٹس کو معطل کیا اور امریکا نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگادی تھی۔

ٹرینڈنگ

مینو