PIAکی نجکاری کیلئے جھوٹ بولا گیا، بلاول

فروہ شمشاد

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے حکومت پر پی آئی اے کی نجکاری کیلئے جھوٹ بولنے کا الزام لگادیا، ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم صاحب بہت ہی بہادر ہیں کیونکہ وہ ہماری غیرموجودگی میں ہی تقریر کرسکتے ہیں۔ وہ نہ پارلیمنٹ میں سامنے کو تیار ہیں نہ ٹی وی پر بات چیت کیلئے راضی ہیں۔ 

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو نے کہا کہ خان صاحب پورے پاکستان کے وزیراعظم بننے کو تیار نہیں، وہ پی ٹی آئی کے ٹوئٹر اور فیس بک کے وزیراعظم ہیں، بات چیت کریں تاکہ انھیں سمجھ آئے کہ کورونا ہے کیا۔

بلاول نے ایبٹ آباد آپریشن اور اسامہ بن لادن سے متعلق وزیراعظم کے بیان پر تنقید کی ، انھوں نے کہا کہ عمران خان نے آج تک وضاحت نہیں کی کہ اسامہ شہید ہے یا نہیں۔ اگر اسامہ شہید ہے تو سانحہ آرمی پبلک اسکول ، ضرب عضب اور سوات آپریشن پر آپ کا موقف کیا ہے؟ خان صاحب کی احمقانہ باتوں کا نقصان خارجہ پالیسی اور معیشت کو ہورہا ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں آپ کی خارجہ پالیسی کامیاب ہے تو کشمیریوں سے پوچھ لیں۔

بلاول نے دعویٰ کیا کہ حکومت آصف زرداری کو قتل کرنا چاہتی ہے، یہ انھیں جیل میں ادویات نہیں دے رہے تھے، یوسف رضا گیلانی کو کورونا ہوچکا ہے ، آصف زرداری کی طبیعت خراب ہے اور آج بھی نیب عدالتیں انھیں بلارہی ہیں، ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا جاتا ہے۔

بلاول بھٹو نے شوگر کمیشن کو این آر او قرار دیا اور کہا کہ یہ عثمان بزدار اور اسد عمر کو دیا گیا۔ انھوں نے پی ٹی آئی پر ون یونٹ کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہمیں بالغ وزیراعظم کی ضرورت ہے جو مسائل حل کرسکے۔ ہم دیکھیں گے یہ کتنی دیر وزیراعظم رہتے ہیں، عوام چاہتے ہیں کوئی بھی آئے لیکن عمران خان کو وزیراعظم نہیں ہونا چاہئے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت کو کیا پتہ پائلٹس کو ہر 6 ماہ بعد امتحان دینا ہوتا ہے، الزام لگانے والے وزیر کی اپنی ڈگری جعلی ہے ، پی آئی اے کو 6 ماہ کی پابندی سے تاریخی نقصان ہوگا۔ ایک طیارہ حادثے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ پی آئی اے کی نجکاری کیلئے جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ پی آئی اے کے اثاثے کم قیمت پر بیچنا چاہتے ہیں۔ دنیا پاکستانی پائلٹس کو بہترین مانتی ہے ، آپ کے اقدام سے پی آئی اے پائلٹس کی کردار کشی ہوئی۔

ٹرینڈنگ

مینو