نوازشریف سرینڈر ہوں، عدالتی حکم

محمد عثمان

اسلام آباد ہائی کورٹ میں العزیزیہ ، فلیگ شپ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے نون لیگ کے قائد میاں نوازشریف کو 9 ستمبر کو طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے تینوں ریفرنسز پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف نواز شریف، مریم نواز، محمد صفدر اور نیب کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔  نیب پراسیکیورٹر نے کہا کہ نواز شریف کا پیش نہ ہونا عدالتی کارروائی سے فرار ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت ابھی نوازشریف کو مفرور قرار نہیں دے گی، عدالت نے حکم دیا کہ نوازشریف 9 ستمبر کو عدالت کے سامنے سرینڈر کریں، اگلی سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔

احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر کو جیل ، قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ تینوں شخصیات نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ، عدالت نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا تھا ، اس کے بعد مسلم لیگ نون کے تینوں رہنماؤں کو رہا کردیا گیا تھا۔

احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو 7 سال قید، 10 سال عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، تمام جائیداد ضبط کرنے اور تقریباً پونے 4 ارب روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی سزا 8 ہفتوں کیلئے معطل کی تھی ، نیب نے بھی العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی اپیل کر رکھی ہے۔ احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا تھا ، نیب نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کررکھی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو